امریکی فورسز سے داعش پر گرفت میں مدد ملے گی: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر براک اوباما نے واضح کیا ہے کہ عراق میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے خصوصی فورسز کے مزید دستے بھیجنے کا فیصلہ 2003ء کی طرح امریکا کی اس ملک پر چڑھائی کا اشارہ نہیں ہے۔

امریکی صدر پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ عراق اور شام میں اس جنگجو گروپ کے خلاف لڑنے کے لیے ان کی حکمت عملی میں امریکا کے زمینی لڑاکا دستوں کی تعیناتی شامل نہیں ہے لیکن اسی ہفتے پینٹاگان نے خصوصی فورسز کے دستے عراق بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

صدر اوباما نے سی بی ایس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''جب میں نے یہ کہا کہ برسرزمین کوئی بوٹ نہیں ہوں گے۔میرے خیال امریکی عوام عمومی طور پر اس سے یہ سمجھے تھے کہ ہم ''عراق پر چڑھائی'' کے طرز کی عراق یا شام میں مداخلت نہیں کرنے جارہے ہیں''۔

''میں اس بات میں بہت واضح ہوں کہ ہم داعش پر منظم انداز میں قابو پانے اور بالآخر اس کو تباہ کرنے جارہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ہمیں فوجی درکار ہیں''۔ انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ان کی یہ انٹرویو جمعرات کی شب نشر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے ملک میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کی فوج کی تعینات کی مخالفت کردی ہے اور انھوں نے جمعرات کو اپنے فیس بُک صفحے پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کسی ملک سے عراق میں برّی فوج بھیجنے کی درخواست نہیں کی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ عراق میں غیرملکی فوج کی تعیناتی کو ایک جارحانہ اقدام تصور کیا جائے گا۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ عراق میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فوجی مہم میں معاونت کے لیے امریکا کی خصوصی آپریشنز فورسز کے قریباً ایک سو فوجی تعینات کیے جائیں گے۔قبل ازیں امریکی صدر نے عراق میں خصوصی فورسز کے صرف پچاس فوجی بھیجنے کا اعلان کیا تھا مگر اب ان کی تعداد بڑھا کر ایک سو کر دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں