''پیرس حملوں کا مفرور منصوبہ ساز ہنگری بھی گیا تھا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گذشتہ ماہ حملے کرنے والوں کے ایک رنگ لیڈر صلاح عبدالسلام نے ہنگری کا سفر کیا تھا اور وہاں غیر رجسٹر تارکین وطن کی ایک ٹیم بھرتی کی تھی۔

اس بات کا انکشاف ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن کے چیف آف اسٹاف جونس لزار نے بڈاپسٹ میں ایک نیوز کانفرنس میں کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''میں اس بات کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ پیرس میں دہشت گردی کے حملوں کا ایک منتظم بڈاپسٹ میں آیا تھا''۔

لزار نے اس شخص کا نام لیا ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ وہ کب ہنگری میں آیا تھا اور آیا اس نے جن لوگوں کو بھرتی کیا تھا وہ فرانسیسی دارالحکومت میں دہشت گردی کے حملوں میں ملوث تھے یا نہیں۔پیرس میں جمعہ 13 نومبر کی شب دہشت گردی کے پے درپے حملوں میں ایک سو تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بعد میں ہنگری حکومت کے ایک ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ شخص صلاح عبدالسلام تھا۔وہ پیرس حملوں کا مرکزی مشتبہ کردار ہے اور اس وقت مفرور ہے۔

تاہم مسٹر لزار کا کہنا تھا کہ یہ مشتبہ شخص بڈاپسٹ میں کلیٹی اسٹیشن پر آیا تھا اور اس نے وہاں ان تارکینِ وطن کو بھرتی کرنے کی کوشش کی تھی جنھوں نے ہنگری حکام کو رجسٹریشن سے انکار کردیا تھا۔بعد میں وہ ان نئے بھرتی کنندگان کے ساتھ ملک سے واپس چلا گیا تھا۔

ستمبر میں ہنگری نے سربیا کے ساتھ اپنی سرحد سیل کردی تھِی۔اس سے قبل ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن بلقانی ریاستوں سے ہنگری میں داخل ہوچکے تھے اور وہ کلیٹی اسٹیشن میں قائم عارضی پناہ گزین کیمپوں میں کئی ہفتے تک مقیم رہے تھے۔

ایک فرانسیسی ذریعے نے بتایا ہے کہ صلاح عبدالسلام نے جو کار کرائے پر حاصل کی تھی،وہ 17 ستمبر کو ہنگری میں دیکھی گئی تھی۔تاہم یہ واضح نہیں ہوا تھا کہ اس کار میں واقعی صلاح عبدالسلام موجود تھا اوراس کے ساتھ کوئی اور بھی ہم سفر تھا یا نہیں۔

بیلجیئم میں پیدا ہونے والا 26 سالہ صلاح عبدالسلام 9 ستمبر کو آسٹریا میں بھی موجود تھا اور وہاں معمول کے ٹریفک چیک کے دوران اس کو روکا گیا تھا اور اس کی رجسٹریشن کی گئِی تھی۔وہ جنوب سے جرمنی کی جانب سے بیلجیئن کی نمبر پلیٹ والی کار میں اپنے دو اور ساتھیوں کے ساتھ وہاں آیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں