یمن کے معزول صدر کی حامی ملیشیا کے 30 جنگجو ہلاک

باغی ملیشیاؤں کی تعز کے سب سے بڑے ہسپتال پر گولا باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

'العربیہ' نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق اتحادی طیاروں کی تعز کے جنوب مشرقی شہر الراھدہ پر بمباری کے نتیجے میں منحرف صدر علی عبداللہ صالح ملیشیا کے تیس جنگجو ہلاک ہو گئے۔

اتحادی طیاروں نے صنعاء کے جنوبی علاقے پر جمعہ کے روز شدید بمباری کی۔ اس کارروائی میں ری پبلیکن گارڈ کے السواد کیمپ کے قریبی علاقے قاع القیضی کو نشانہ بنایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دارلحکومت کے دور دراز علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

دوسری جانب باغی ملیشیاؤں نے تعز شہر کے سب سے بڑے ہسپتال پر گولہ باری کی ہے۔ انقلاب جنرل ہسپتال کی مرکزی لیبارٹری کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ گولہ باری سے لیبارٹری کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ نیز اس حملے میں طبی عملے کے متعدد ارکان ہلاک وزخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

عوامی مزاحمت کاروں کے ایب گورنری کے شہر یریم کے ایک چیک پوائنٹ پر حملے میں حوثی باغیوں اور علی عبداللہ صالح کے جنگجوؤں کی بڑی تعداد ہلاک وزخمی ہوئی۔

تعز کے علاقوں الشریجہ اور الوازعیہ میں شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ اتحادی فوج کے لڑاکا طیاروں نے تعز کی حیفان اور الراھدہ ڈائریکٹوری جبکہ جوف کی صرواح ڈائریکٹوری اور اللبنات علاقے میں باغیوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

الجوف گورنری میں یمنی فوج اور مزاحمت کاروں نے باغی ملیشیاؤں کے اللبنات کیمپ کی سمت پیش قدمی جاری رکھی۔ یہ علاقہ الجوف شہر کے صدر مقام الحزم کا گیٹ وے سمجھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں