.

داعش سے مبینہ تیل خریداری پر ایران بھی ترکی سے ناراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہفتہ قبل #روس کا جنگی طیارے مار گرائے جانے کے بعد #انقرہ اور #ماسکو کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کے جلو میں #ایران نے الزام عاید کیا ہے کہ #ترکی دولت اسلامی "#داعش" سے تیل خرید رہا ہے۔ اس سے قبل روس بھی ترکی پر "داعش" کے ساتھ تیل کے لین دین کا الزام عاید کر چکا ہے۔

دوسری جانب ترک صدر رجب #طیب_اردوآن نے روسی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کی حکومت کا داعش سے تیل کی خریداری کا ثبوت ملے تو وہ منصب صدارت سے مستعفی ہونے کو تیار ہیں۔

اب یہ سنگین نوعیت کا الزام ایرانی حکومت کی جانب سے بھی سامنے آیا ہے تاہم #تہران وزارت خارجہ نے ساتھ ہی انقرہ حکومت پر دوطرفہ تعلقات کے احترام پر بھی زور دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان جابر انصاری نے کہا کہ ہم ترک صدر کو داعش کے ساتھ تیل کے لین دین پر خبردار کرتے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارا مطالبہ ہے کہ انقرہ حکومت دونوں ملکوں کے درمیان باہمی احترام کو قائم رکھنے کے لیے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔

ترکی کا ایران کو انتباہ

روس کی جانب سے ترکی پر داعش سے تیل کی خریداری کے الزام کے بعد ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے روس اور ایران دونوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ الزام تراشی کی سیاست سے گریز کریں۔

صدر ایردوآن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ "میں نے اپنے ایرانی ہم منصب کو خبردار کیا ہے کہ وہ غلطیاں دہرانے سے باز رہیں۔ ایرانی حکومت پر واضح کردیا گیا ہے کہ تہران حکومت الزام تراشی کے معاملے میں غیرذمہ داری کامظاہرہ کرتے ہوئے خبروں کی تصدیق کے بغیر انہیں اچھالنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے"۔

صدر ایردوآن نے کہا کہ انقرہ میں منعقدہ "جی 20" ممالک کی کانفرنس کے موقع پر بھی روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے اعتراضات کے جواب میں ان پر واضح کردیا تھا کہ اگر ان کے پاس ترکی کی داعش سے تیل کی خریداری کا کوئی ثبوت ہے تو وہ مہیا کریں۔ ثبوت ملنے پر صدارت کا عہدہ چھوڑنے کو تیار ہیں۔