.

کیلیفورنیا حملہ آور صرف ایک بار سعودی عرب آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اخبار 'الحیات' نے کی وزارت داخلہ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ریاست کیلیفورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں ایک سوشل سینٹر پر حملہ کرنے والے سید فاروق ایک مرتبہ عمرہ ادائی کے لئے سعودی عرب آیا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے بتایا کہ سید رضوان فاروق عمرہ ویزہ پر صرف ایک مرتبہ سعودی عرب آیا۔ وہ 19 جولائی 2014ء کو امریکا سے سعودی عرب آیا اور مملکت میں چھ دن مقیم رہا۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے یہ وضاحت ایسے وقت میں جاری کی ہے کہ امریکی حکام میڈیا پر یہ دعوی کر رہے ہیں کہ سید فاروق 2013 اور 2014 میں دو مرتبہ سعودی عرب گیا۔ یاد رہے سعودی حکومت نے متعلقہ بین الاقوامی اداروں کو گذشتہ برس 130 افراد کے بارے میں اطلاع دی تھی کہ وہ مشتبہ دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔

کیلیفورنیا مرکز پر حملے کے دوران پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی تاشفین ملک کے بارے میں حکام نے بتایا کہ اس کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع لیہ کی تحصیل کروڑ لعل عیسن سے ہے۔ وہ پانچ یا چھ برس قبل ملتان میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کرنے پاکستان آئیں۔

'سی این این' نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ سید فاروق کی تاشفین سے ملاقات سعودی عرب کے دورے میں ہوئی۔ وہ امریکا، ملازمت کی غرض سے آئی جس کے بعد اقامہ ویزہ جاری کیا گیا۔

سید رضوان فاروق کی بہن سائرہ خان نے سی بی سی نیوز کو بتایا: ’میرے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں آ سکتا کہ میرے بھائی اور بھابھی اس قسم کی کوئی چیز کر سکتے ہیں بطور خاص ایسے حالات میں جب ان کی شادی خوش و خرم تھی اور ان کی ایک چھ ماہ کی بیٹی تھی۔‘

فاروق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تنہائی پسند تھے اور ان کا کوئی دوست نہیں تھا جبکہ تاشفین کے بارے میں اہل خانہ نے بتایا کہ کہ وہ ’نرم گفتار اور خیال رکھنے والی خاتون خانہ‘ تھیں۔