''بشارالاسد کا مستقبل ایران کے لیے ''سرخ لکیر'' ہے''

صرف شامی عوام کو اپنے ملک کی قسمت کے فیصلہ کے حق حاصل ہے: مشیر خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک مشیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی قسمت کا فیصلہ صرف شامی عوام ہی کرسکتے ہیں اور یہ ایران کے لیے ''سرخ لکیر'' ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر برائے خارجہ امور علی اکبر ولایتی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''بشارالاسد اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے سُرخ لکیر ہیں کیونکہ انھیں شامی عوام نے صدر منتخب کیا تھا۔شامی عوام ہی کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنا چاہیے اور شام کی سرحدوں سے باہر کسی کو بھی شامی عوام کے لیے کسی کو منتخب کرنے کا حق حاصل نہیں ہے''۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران روس اور ترکی کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کرے گا۔ترکی نے گذشتہ ماہ روس کا ایک لڑاکا طیارہ شام کے ساتھ واقع علاقے میں اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر مار گرایا تھا۔اس واقعے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے۔

علی اکبر ولایتی نے کہا کہ ''خطے میں کشیدگی کو بڑھاوا دینے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ہم کسی بھی فریق کی طرف داری نہیں کرنی چاہیے اور ان دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا ہماری ذمے داری ہے''۔

واضح رہے کہ ایران اور روس شامی صدر بشارالاسد کے سب سے بڑے پشتی بان ہیں۔وہ ان کی سیاسی ،سفارتی ،مالی اور عسکری مدد کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بحران کے حل کے لیے شامی صدر کی دستبرداری کی شرط عاید نہیں کی جانی چاہیے جبکہ امریکا ،ترکی اور عرب ممالک کا یہ موقف ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے بشارالاسد اقتدار سے الگ ہوجائیں،ان کی جگہ تمام گروپوں اور جماعتوں کی نمائندگی کی حامل نئی عبوری حکومت قائم کی جائے اور اس کی نگرانی ہی میں نئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہونے چاہییں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں