ترکی اور روس میں مصالحت کرانا ہمارا فرض ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے اپنے اتحادی روس اور ترکی کے درمیان مصالحت کے لیے ازخود ہی کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے اور کہا ہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کرانا ہماری ذمے داری ہے لیکن ابھی اس بیان کی صدائے بازگشت سنی ہی جارہی تھی کہ ایرانی میڈیا نے بھی روس کی طرح ترک صدر رجب طیب ایردوآن پر یہ الزام عاید کردیا ہے کہ وہ داعش سے شام کے تیل کی خریداری میں ملوّث ہیں۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر برائے امور خارجہ علی اکبر ولایتی نے کہا ہے:''ایران کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ترکی اور روس کے درمیان کشیدگی کو کم کرے کیونکہ خطے کی پہلے سے کشیدہ صورت حال کے پیش نظر ایک اور کشیدگی کو ہوا دینا (کسی کے لیے) بہتر نہیں ہے''۔

روس اور ترکی کے درمیان 24 نومبر کو روسی فضائیہ کے ایک لڑاکا جیٹ کو شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں مارگرائے جانے کے بعد سے سخت کشیدگی پیدا ہوچکی ہے۔دونوں ملکوں کے لیڈروں کے درمیان سخت اور الزامی بیانات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے اور اگلے روز روس نے ترکی کے خلاف اقتصادی پابندیاں بھی عاید کردی ہیں۔

روس نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کے خاندان پر داعش کے ساتھ تیل کی تجارت میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا لیکن ترکی نے اس الزام کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔ترک صدر نے گذشتہ ہفتے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ترکی کے پاس ماسکو کے شام میں باغیوں سے تیل خریدنے کے ''ثبوت'' موجود ہیں۔

اس دوران ایرانی میڈیا نے بھی روسی مؤقف کی ترجمانی کرتے ہوئے اس کے دعووں کی تشہیر شروع کردی تھی۔اس کے ردعمل میں صدر رجب ایردوآن نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ایران نے ترکی کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھا تو اس کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ ترک صدر کے اس سخت دھمکی آمیز بیان کے بعد ایرانی میڈیا کی ویب سائٹ سے ترکی کے خلاف مواد کو ہٹا دیا گیا ہے۔

ایران کی مصالحتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ عراق اور شام میں موجود ان کے فوجی مشیروں کے پاس داعش کے تیل سے لدے ٹرکوں کے ترکی کی جانب جانے کی تصاویر موجود ہیں۔

لیکن اس کے بعد علی اکبر ولایتی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''روس کی جانب سے اپنے دعوے کے حق میں جاری کردہ ثبوت کا مطلب یہ ہے کہ اب مزید دستاویز کو شائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ہمیں کسی کی طرف داری نہیں کرنی چاہیے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں