روس سے کشیدگی ختم ہونے پر ترکی، داعش پر حملے تیز کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ روس اور ترکی کے درمیان حالیہ تنازعے کے باعث امریکا نے اپنی قیادت میں داعش کے خلاف شام میں کئے جانے والے فضائی حملوں میں ترکی کے کردار میں توسیع کے مطالبہ وقتی طور پر مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واشنگٹن نے اپنے فیصلے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انقرہ اور ماسکو کے درمیان کشیدہ تعلقات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے وقت دینے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے داعش کے خلاف جنگ میں ترکی سے اہم کردار کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ فرانس کے فضائی حملوں اور حال ہیں میں برطانیہ کی جانب بھی داعش کے خلاف جنگ میں شمولیت کے بعد ترکی کا اس معاملے اہم کردار وقت کا تفاضہ ہے۔

شامی بحران میں ترکی شام کے ساتھ اپنی جنوبی سرحد کو تحفظ دے کر اہم کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ عالمی برادری کو اس بات پر گہری تشویش رہی ہے کہ داعش شام اور ترکی سرحد کو سپلائی اور جنگجوؤں کی سمگلنگ کے روٹ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں کے اندر ترکی کے شام میں فضائی حملوں کے بارے میں یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ ان کا ہدف داعش کے بجائے کردستان ورکرز پارٹی رہی ہے۔ امریکی عہدیداروں کی جانب سے لیک کردہ معلومات میں بتایا گیا ہے کہ ترک ایف سولہ طیاروں نے ایسی فضائی کارروائیوں میں شرکت کی ہے جس کا مقصد شامی اپوزیشن کی مدد تھا تاکہ وہ داعش کے زیر قبضہ دو دیہات کا کنڑول شدت پسند تنظیم سے دوبارہ واپس لے سکیں۔

ادھر ترکی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کی فوج نے داعش کے خلاف اب تک ہونے والے فضائی حملوں کے اندر نصف میں شرکت کی اور امریکا کو لاجسٹک مدد سمیت متعدد اہداف کی نشاندہی میں بھی مدد کی۔

اس ضمن میں سب سے اہم پیش رفت یہ تھی کہ ترکی نے اپنی اینجرلک ائر بیس کو اتحادی طیاروں کے لئے کھولا تاکہ وہ اسے داعش کے خلاف حملوں کے لئے استعمال کر سکیں۔

انقرہ اور ماسکو کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود اتحادی فوج کے شام پر حملے متاثر نہیں ہوئے۔ امریکا اس کشیدگی کا جلد خاتمہ چاہتا ہے تاکہ ترکی شام کے اندر فضائی حملوں میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں