.

لیبیا میں جاری تنازعے کے سیاسی حل کے لیے سمجھوتا

تیونس میں متحارب دھڑوں کے درمیان مذاکرات میں تاریخی ڈیل طے پانے کی نوید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے متحارب سیاسی دھڑوں کے درمیان ملک میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے تیونس میں کئی روز کے مذاکرات کے بعد سمجھوتا طے پاگیا ہے اور سیاسی تعطل دور کرنے کے لیے لیبیا کی دونوں متوازی پارلیمان کی منظوری کے بعد اس سمجھوتے پر عمل درآمد کا آغاز ہو جائے گا۔

طرابلس میں قائم جنرل نیشنل کانگریس ( جی این سی، لیبا کی قومی اسمبلی) کے اول نائب سربراہ عواد محمد عبدالصادق نے تیونس میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جس کا لیبی عوام ،عربوں اور دنیا کو انتظار تھا''۔

جی این سی کا وفد طبرق میں قائم بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ لیبی ایوان نمائندگان کے ساتھ گذشتہ کئی روز سے تیونسی دارالحکومت کے نواح میں مذاکرات کررہا ہے۔عواد عبدالصادق نے لیبی عوام پر زوردیا ہے کہ وہ اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس سمجھوتے کی حمایت کریں۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر لیبی عوام اور ادارے اس سمجھوتے کی حمایت کرتے ہیں تو ہم زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں یا پھر ایک مہینے تک سیاسی حل کے قریب پہنچ جائیں گے''۔

جی این سی کے وفد میں شامل آمنہ امطیر نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی (اے ایف پی) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سمجھوتے کے تحت ایک نئی نمائندہ باڈی قائم کی جائے گی اور یہ پندرہ دن کے اندر وزیراعظم کا انتخاب کرے گی جبکہ ایک اور کمیٹی لیبیا کے آئین کا جائزہ لے گی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برنارڈینو لیون بھی کئی ماہ تک متحارب دھڑوں کو ایک متحدہ کابینہ کی تشکیل پر آمادہ کرنے کے لیے کوشاں رہے تھے تاکہ ملک میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے گذشتہ چار سال سے جاری خونریزی کا خاتمہ کیا جاسکے۔

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں گذشتہ سال سے اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کی حمایت یافتہ حکومت قائم ہے جبکہ مصر کی سرحد کے نزدیک واقع مشرقی شہر طبرق میں وزیراعظم عبداللہ الثنی اپنے زیر نگیں علاقوں میں حکومت چلا رہے ہیں اور ان کی حامی پارلیمان بھی اسی شہر میں اپنے اجلاس منعقد کرتی ہے۔وزیراعظم عبداللہ الثنی اور ان کے تحت پارلیمان کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ فجر لیبیا کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ان دونوں حکومتوں کو سخت گیر گروپوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔اس دوران دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے جنگجو بھی لیبیا میں اپنے قدم جما چکے ہیں۔