شامی حزب اختلاف کی الریاض اجلاس میں شرکت

نیویارک میں مذاکرات سے قبل تنازعے کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کی اعتدال پسند حزب اختلاف کے مختلف گروپوں کی سرکردہ شخصیات سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں سوموار کے روز پہنچی ہیں اور انھوں نے شامی تنازعے کے حل کے لیے بات چیت کی ہے۔

شامی حزب اختلاف کے رہ نما الریاض میں بات چیت کے دوران شامی حکومت کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے امن مذاکرات کے لیے کوئی مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کی کوشش کریں گے۔سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ ان گروپوں کو آپس میں آزادانہ طریقے سے صلاح و مشورے اور بات چیت کے لیے ہر ممکن سہولت مہیا کرنے کو تیار ہے تاکہ وہ جنیوا اول سمجھوتے کے مطابق تنازعے کے حل کے لیے کسی ایک مشترکہ مؤقف پر متفق ہوجائیں۔

جنیوا اول سمجھوتے پر 2012ء میں منعقدہ امن کانفرنس کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔اس میں شام میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے لائحہ عمل وضع کیا گیا تھا۔اس شامی صدر بشارالاسد پر زوردیا گیا تھا کہ وہ ایک انتظامی کونسل کے حق میں فوری طور پر دستبردار ہوجائیں۔اس میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کی شخصیات کو عبوری حکومت میں مساوی نمائندگی دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ الریاض مذاکرات میں شامی حزب اختلاف کے مختلف گروپوں پر مشتمل قریبا ایک سو شخصیات شرکت کررہی ہیں۔ان کا تعلق مغرب کے حمایت یافتہ شامی قومی اتحاد (ایس این سی) اور دمشق میں قائم قومی رابطہ کمیٹی برائے جمہوری تبدیلی (این سی سی) سے ہے۔

ان کے علاوہ تعمیر برائے شامی ریاست کے صدر اور شریک بانی لوئے حسین بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔اس سیاسی تحریک میں مختلف نظریاتی پس منظر رکھنے والی شخصیات شامل ہیں۔

الریاض میں شامی حزب اختلاف کے اس مشاورتی اجلاس سے قبل العربیہ نیوز چینل نے دسمبر کے اوائل میں یہ اطلاع دی تھی کہ شام کے متحارب دھڑوں کے درمیان مذاکراتی کانفرنس اب ویانا کے بجائے 18 دسمبر کو نیویارک میں ہوگی۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ شامی حزب اختلاف کی سرکردہ شخصیات کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس نے یہ کانفرنس یکم جنوری تک شامی صدر بشارالاسد کی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان براہ راست مذاکرات کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کی غرض سے طلب کی ہے۔

واضح رہے کہ شامی حزب اختلاف اور باغی گروپوں کے درمیان ملک میں گذشتہ ساڑھے چار سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے اتفاق رائے نہیں پایا جاتا ہے اور وہ خاص طور پر صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے منقسم ہیں۔بعض گروپ بشارالاسد کی فوری رخصتی چاہتے ہیں اور ان کی اقتدار سے علاحدگی تک شامی حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں