غریب سعودی دوشیزہ کو 15 ملین ریال کیسے ملے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں کی کہاوت ایک حقیقت ہے۔ انسان بعض اوقات مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں ہوتا ہے تو اس کا رب اس کے لیےامید کی کوئی کرن روشن کرکے مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال دیتا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ سعودی عرب کی ایک 18 سالہ دوشیزہ کا ہے جس کے جذبہ قربانی سے نہ صرف اس کے قرضوں کے بوجھ تلے دبے والد نے قرض ادا کردیا بلکہ وہ خود پندرہ ملین ریال کی مالک بن گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی اخبار"وصف" کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں اس دلچسپ اور حیرت انگیز واقعے کا احوال بیان کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ایک غریب اور مقروض سعودی خاندان کا واقعہ سامنے آیا۔ مقروض سعودی شہری قرض کی عدم کی وجہ سے سخت پریشان تھا کہ اچانک اس کے ایک واقف کار مگر بڑی عمر کے ایک دولت مند شخص نے اسے قرض سے نجات دلانے کے لیے پیشکش کی۔ اس نے مقروض شہری سے کہا کہ وہ اپنی اکیس سالہ بیٹی اسے نکاح میں دے دے تو وہ اس کا سارا قرض اتار دے گا۔ یہ تجویز سُن کر مقروض شہری کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ وہ گھر واپس لوٹا اور بیٹی کو سارا ماجرا بیان کرکے اس کی رضامندی طلب کی۔ بیٹی نے بوڑھے امیر سے شادی سے انکار کردیا۔ باپ نے بہتیراسمجھا مگربیٹی نے بات مان کرنہ دی۔

باپ سے گفتگو کرتے ہوئے لڑکی کی ایک چھوٹی بہن جس کی عمر18 سال تھی کو جب پتا چلا تو اس نے دونوں کا مسئلہ حل کراتے ہوئے خود کو بوڑھے امیر کے ساتھ شادی کے لیے پیش کردیا۔ مقروض شخص نے امیرتک بات پہنچائی اور بتایا کہ اس کی بڑی بیٹی نہیں مان رہی البتہ چھوٹی بیٹی نے خود کو اس کے لیے تیار کر لیا ہے۔ کیا آپ کو چھوٹی بیٹی کا رشتہ قبول ہے تو بزرگ نے چھوٹی لڑکی سے نکاح پر آمادگی ظاہر کردی۔

دونوں میں نکاح بھی ہو گیا۔ دولت مند نےغریب کا قرض چکا دیا۔ دونوں میاں بیوی کے درمیان صرف نکاح ہوا تھا، خلوت صحیحہ' نہیں ہوئی تھی کہ اچانک اس شخص کا انتقال ہو گیا اور غریب کی بیٹی اپنے شوہر کے ترکے سے 15ملین ریال کی بھاری رقم لے کر اپنے والد کے گھر آ گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں