داعش سے لڑنے کے لیے نیٹو فوج نہیں آئے گی: اسٹولٹنبرگ

جنگجو گروپ کے خلاف لڑائی کے لیے مقامی فورسز کو مضبوط بنایا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) نے شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی کے لیے زمینی فوج بھیجنے کا امکان مسترد کردیا ہے۔نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے ایک انٹرویو میں مقامی فورسز کو داعش کے خلاف جنگ کے لیے تقویت بہم پہنچانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے سوئس روزنامے ٹیگس آنزائیرز میں شائع ہونے والے انٹرویو میں کہا ہے کہ ''برّی فوج بھیجنا داعش مخالف اتحاد اور نیٹو اتحادیوں کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے''۔ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا شام میں داعش پر فضائی حملوں کے علاوہ زمینی فوج بھی بھیجی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ''امریکا کی خصوص فورسز کی محدود تعداد بھیجی جارہی ہے ۔تاہم پیش بندی کے طور پر مقامی فورسز کو مضبوط کیا جارہا ہے۔یہ کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن یہی واحد آپشن ہے''۔

انھوں نے یہ بات زوردے کر کہی ہے کہ ''یہ تنازعہ مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان نہیں ہے بلکہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف ہے۔مسلمان اس جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے۔اس کا نشانہ بننے والے بھی زیادہ تر مسلم ہیں اور داعش کے خلاف بھی مسلمان لڑرہے ہیں۔ہم ان کے لیے یہ جنگ نہیں لڑسکتے ہیں''۔

اسٹولٹنبرگ نے بتایا کہ نیٹو ترکی کی فضائی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے مدد دے گا اور اتحاد کرسمس سے قبل ترکی کے لیے اقدامات کا پیکج منظور کرے گا۔

انھوں نے ترکی اور روس کے درمیان شام کے سرحدی علاقے میں طیارہ مارگرائے جانے کے واقعے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر دیا اور کہا ہے کہ اس وقت سب سے ضروری امر یہ ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ایک میکانزم وضع کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس شمال بعید سے بحرمتوسطہ کے علاقے تک اپنی فوجی قوت مجتمع کررہا ہے۔اس لیے ہمیں ترکی ایسے واقعات سے بچنے کی ضرورت ہے۔نیٹو کے سربراہ نے روس پر بھی زوردیا ہے کہ وہ داعش کے خلاف جنگ میں زیادہ تعمیری کردار ادا کرے کیونکہ روس نے اب تک داعش کے علاوہ دوسرے باغی گروپوں پر حملے کیے ہیں اور وہ اسد رجیم کی حمایت کررہا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ ہفتے کیا تھا کہ عراق میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے خصوصی فورسز کے مزید دستے بھیجنے کا فیصلہ 2003ء کی طرح امریکا کی اس ملک پر چڑھائی کا اشارہ نہیں ہے۔انھوں نے سی بی ایس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ''جب میں نے یہ کہا کہ برسرزمین کوئی بوٹ نہیں ہوں گے۔میرے خیال امریکی عوام عمومی طور پر اس سے یہ سمجھے تھے کہ ہم ''عراق پر چڑھائی'' کے طرز کی عراق یا شام میں مداخلت نہیں کرنے جارہے ہیں''۔

صدر اوباما پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ عراق اور شام میں اس جنگجو گروپ کے خلاف لڑنے کے لیے ان کی حکمت عملی میں امریکا کے زمینی لڑاکا دستوں کی تعیناتی شامل نہیں ہے لیکن گذشتہ بدھ کو پینٹاگان نے ایک سو خصوصی فوجی عراق بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں