وزٹ ویزے والے شامی سعودی عرب میں ملازمت کے اہل قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں خانہ جنگی کی تباہ کاریوں سے متاثر ہو کر وزٹ ویزہ پر سعودی عرب پناہ لینے والے شامیوں کو نجی شعبے میں ملازمت کی اجازت ہو گی۔ یاد رہے سعودی عرب میں بغیر ورک ویزہ کسی بھی سرکاری یا نجی شعبے میں ملازمت کی اجازت نہیں ہوتی۔

اس امر کا انکشاف سعودی وزارت محنت کے کے ذرائع نے روزنامہ 'الحیات' سے بات کرتے ہوئے کیا۔ سعودی حکومت نے ملک میں وزٹ ویزے پر آںے والے شامی اور یمنی باشندوں کے لئے ورک ویزے کی پابندیوں سے استشنٰی دیا ہے۔ ان افراد کو تعلیمی اداروں اور سرکاری ہسپتالوں میں مفت سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

اس کے علاوہ تین دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو بھی ان کے ملک کی سیاسی صورتحال میں ابتری دیکھتے ہوئے خصوصی مراعات دی گئی تھیں۔ کونسل برائے وزراء کے ایک فیصلے کے تحت برما، ترکستان اور فلسطین کے وہ شہری جن کے پاس مصر کی جاری کردہ سفری دستاویزات ہوں، کو سعودی عرب سے ڈی پورٹ نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب میں موجود شامی دو اصناف میں تقسیم ہیں: ایک طرف تارکین وطن ہیں جن کے پاس باقاعدہ رہائشی پرمٹس [اقامہ] ہے اور دوسرے جو کہ وزٹ ویزہ پر سعودی عرب میں رہ رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ شام میں جاری صورتحال کے پیش نظر شامی تارکین وطن کو اجازت ہے کہ اگر انہیں فائنل ایگزٹ ویزا کے لئے بھجوایا جارہا ہے تو وہ اپنے اصلی کفیل کی اجازت کے بغیر کسی اور شخص کے پاس نوکری کے لئے اپنے اقامہ منتقل کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب میں تارکین وطن کے نوکری کے حصول کے لئے کفیل یا گارنٹر کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ اس شخص کی سعودی عرب میں موجودگی کے عرصے کی گارنٹی دیتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت تین وزارتوں لیبر، داخلہ اور خارمہ امور کے عہدیداروں پر مشتمل ایک کمیٹی ایک ایسا طریقہ کار وضع کررہی ہے جس کے تحت شامی شہریوں کو عارضی ورک پرمٹ دیئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ اپنے آخری مراحل میں ہے اور جلد ہی اس کا اطلاق کردیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں