داعش کے خلاف جنگ اسلام سے معرکہ آرائی نہیں: اوباما

امریکی صدر کا انتہا پسندی کے خلاف نئی حکمتِ عملی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ داعش 'ٹھگوں اور لٹیروں کا ٹولہ ہے، جس کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں'۔ اتوار کی شام گئے، اوول آفس سے قوم سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ امریکہ اس شدت پسند گروہ کو شکست دے کر رہے گا۔

اُنھوں نے واضح کیا کہ 'دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی، اسلام کے ساتھ جنگ نہیں۔' صدر نے کہا کہ 'شدت پسندی سرطان کی مانند ہے، جب کہ دہشت گردی کا خطرہ ایک حقیقت ہے'۔

صدر اوباما نے کیلی فورنیا شوٹنگ کے واقعے کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے ایک نئی موثر حکمت عملی کا اعلان کیا۔ صدر نے سان برنارڈینو قتل عام کو 'کھلی دہشت گردی' قرار دیا۔

اعلان کردہ حکمت عملی میں 'ویزا ویور' پروگرام کو ختم کرنا، ہوائی اڈوں پر اضافی اسکریننگ کا آغاز، اور داعش کے محفوظ ٹھکانوں پر زوردار حملے جاری رکھنا، 'چاہے وہ جہاں کہیں بھی چھپے ہوئے ہوں'۔ 'ویزا ویور' پروگرام پر نظر ثانی کے بارے میں، صدر نے کہا کہ اُنھوں نے محکمہ خارجہ اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو احکامات جاری کر دیے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ماضی میں امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے داعش اور دیگر دہشت گرد اور انتہا پسند گروپوں کے متعدد دہشت گرد منصوبوں کو ناکام بنایا ہے۔

صدر نے امریکی کانگریس پر زور دیا کہ 'گن کنٹرول' کے حوالے سے فوری قانون سازی کا اقدام کیا جائے، جس سے حملوں میں استعمال ہونے والے خطرناک نوعیت کے ہتھیاروں تک عام شہری کی رسائی باقی نہ رہے۔

ساتھ ہی، صدر کا کہنا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکی کانگریس داعش کا قلع قمع کرنے کے لیے امریکی سلامتی افواج کو 'مزید طاقتور بنانے کے اقدام کے لیے ووٹ دے'۔

صدر نے کہا کہ گذشتہ ہفتے سان برنارڈینو میں ہونے والے واقعے کے بارے ایف بی آئی حقائق اکٹھے کر رہا ہے۔ تاہم، ابھی اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ دونوں حملہ آوروں کا کسی بیرونی دہشت گرد گروہ سے تعلق تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ میں دہشت گرد خطرات سے نمٹنے کے لیے 'ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں'، جب کہ امریکی فوج نے بیرون ملک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کا پیچھا جاری رکھا ہوا ہے۔

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ اب دہشت گردوں کا دھیان 'کم پیچیدہ' حملوں کی جانب مرکوز ہے، جیسا کہ کیلی فورنیا میں دیکھا گیا۔

صدر اوباما نے کہا کہ امریکیوں کو خوف زدہ ہونے یا اپنے بلند اقدار کو قربان کرنے کی ضرورت نہیں، اور یہ کہ حکام جاگ رہے ہیں، اور عوام کے تحفظ اور امن کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں جب کہ درکار مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

صدر اوباما نے واضح کیا کہ امریکی فوج کو کسی سرزمین پر پیر رکھنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ موثر اور زوردار فضائی کارروائیوں کے ذریعے متعین اہداف حاصل کیے جائیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ داعش کا شدت پسند گروپ یہی چاہتا ہے کہ امریکی بری فوج کو الجھایا جائے۔ تاہم، دشمن کے عزائم کو خاک میں ملایا جائے گا، اور اس ٹولے کا مقابلہ بہتر حکمت عملی پر عمل درآمد کر کے کیا جائے گا۔

اپنی تقریر میں، صدر اوباما نے امریکی مسلمان برادری کی بہادری اور حب الوطنی کی تعریف کی، جو ، اُن کے مطابق، امریکہ کی ترقی اور خوش حالی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

ساتھ ہی اُنھوں نے کہا کہ دنیا کی کثیر مسلمان آبادی معتدل خیالات کی مالک ہے، جنھوں نے کھل کر داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی مذمت کی ہے۔

بدھ کو کیلی فورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں معذوروں کی بحالی کے ایک مرکز پر ہونے والی فائرنگ میں سید رضوان فاروق اور تاشفین ملک کے مشتبہ جوڑے نے 'سفاکانہ طریقے سے' فائرنگ کرکے 14 افراد کو ہلاک اور 21 کو زخمی کیا۔ واقعے کے چند ہی گھنٹوں بعد مشتبہ میاں بیوی جائے واردات سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر پولیس فائرنگ میں مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں