شام اورعراق میں ایران کی پالیسیاں فرقہ وارانہ ہیں: ترکی

ایران تر کی کے خلاف توہین آمیز الزام تراشی سے باز رہے: وزیرخارجہ کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ترک وزیر خارجہ مولود کاوس اوغلو نے ایران کی شام اور عراق سے متعلق پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ ہیں اور ان سے پورے خطے کو خطرہ لاحق ہے۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی بحران نہیں ہے۔

مولود کاوس اوغلو نے ترکی کے کنال 24 ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ سوموار کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ترکی نے ہمیشہ ایران کی حمایت کی ہے اور وہ اس کے ساتھ بہتر تعلقات استوار رکھنا چاہتا ہے۔تاہم انھوں نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ توہین آمیز الزام تراشی سے باز رہے۔

ترک وزیر خارجہ نے روس سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اشتعال انگیز کارروائیوں کا سلسلہ اب بند کردے۔انھوں نے روس کے ساتھ سفارتی ذرائع سے کشیدگی کے خاتمے پر زوردیا ہے۔ کاوس اوغلو نے کہا:''ہم روس سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ایک زیادہ بالغ نظر ریاست کی حیثیت سے کردار ادا کرے''۔

وزیرخارجہ مولود نے یہ بیان ترک میڈیا میں ایک روسی فوجی کی تصاویر منظرعام آنے کے بعد جاری کیا ہے۔یہ فوجی روسی جنگی بحری جہاز پر آبنائے باسفورس سے بحر متوسطہ کی جانب جاتے ہوئے میزائل لانچر سے ترکی کی جانب اشارہ کررہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں