.

ایران کا میزائل تجربہ اقوام متحدہ قراردادوں کی خلاف ورزی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے دو عہدے داروں نے ایران کی جانب سے گذشتہ ماہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کے تجربے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دو قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ان دونوں عہدے داروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ بیلسٹک میزائل کا یہ تجربہ 21 نومبر کو ایران ہی کی حدود میں کیا گیا تھا۔قبل ازیں سوموار کو فاکس نیوز نے اپنی ویب سائٹ پر مغربی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے لکھا تھا کہ ایران نے یہ میزائل تجربہ پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع ساحلی شہر چاہ بہار کے نواحی علاقے میں کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2010ء میں منظور کردہ قرارداد کے تحت ایران پر تمام بیلسٹک میزائلوں کے تجربات پر پابندی عاید ہے اور یہ ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر عمل درآمد تک برقرار رہے گی۔

14 جولائی کو ویانا میں طویل مذاکرات کے بعد طے پائے اس تاریخی معاہدے کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کردے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عاید بیشتر بین الاقوامی پابندیاں ختم کردی جائیں گی۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 20 جولائی کو ایک قرارداد کے ذریعے اس جوہری معاہدے کی توثیق کی تھی۔اس میں ایران سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ آیندہ آٹھ سال تک جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل بیلسٹک میزائلوں کی تیاری سے باز رہے۔

امریکا ،برطانیہ ،فرانس اور جرمنی نے اکتوبر میں سلامتی کونسل کی ایران پر پابندیوں کی نگرانی کی ذمے دار کمیٹی سے کہا تھا کہ وہ تہران کی جانب سے ایک میزائل کے تجربے پر کارروائی کرے۔ایران نے اکتوبر میں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک میزائل تجربہ کیا تھا لیکن اس کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

سلامتی کونسل میں متعین متعدد سفارت کاروں نے سوموار کو کہا تھا کہ انھیں ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کی میزائل تجربے پر عاید پابندی کی خلاف ورزی کرنے کا باضابطہ طور پر کوئی نوٹی فیکشن نہیں ملا ہے۔

واضح رہے کہ ایران بیلسٹک ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام پر عمل پیرا ہے اور وہ سنہ 2010ء سے ایسے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے (ڈرونز) تیار کررہا ہے جو ایرانی وزارت دفاع کے مطابق ایک ہزار کلومیٹر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایران نے 1990ء کی دہائی میں اپنی دفاعی صنعت کو فروغ دیا تھا۔وہ اب خود ہلکے اور بھاری ہتھیار تیار کررہا ہے۔ان میں مارٹر گولوں سے لے کر ٹینک اور سب میرینز تک تیار کی جارہی ہیں۔اس نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تیار کررکھے ہیں۔یہ دو ہزار کلومیٹر تک مار کرسکتے ہیں اور اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔امریکا ایران کے ہتھیاروں کی تیاری کے اس پروگرام پر اپنی تشویش کا اظہار کرتا رہتا ہے۔تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس کا یہ پروگرام اپنے دفاع کے لیے ہے۔