.

داعش مخالف مہم میں شامل کینیڈین طیاروں کی جلد واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیڈا کی نئی لبرل حکومت اپنے انتخابی وعدے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے آیندہ چند ہفتوں میں عراق اور شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف فضائی مہم میں شریک اپنے چھے لڑاکا طیاروں کو واپس بلا لے گی۔

کینیڈا کے وزیر خارجہ اسٹیفین ڈیون نے اوٹاوا میں سوموار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''یہ ہفتوں کا معاملہ ہے ،مہینوں کا نہیں''۔ان سے سوال کیا گیا تھا کہ لڑاکا جیٹ کب واپس بلائے جارہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ''اس وقت ہم (عراق اور شام میں داعش کے خلاف) صرف دو فی صد فضائی حملے کررہے ہیں۔ہم داعش مخالف اتحاد کے لیے اس سے زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے جا رہے ہیں''۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا ،فرانس اور برطانیہ نے نجی طور پر کینیڈا کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کا مؤقف ہے کہ اس سے داعش مخالف کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔کینیڈا کی سابق کنزرویٹو حکومت نے امریکا کی قیادت میں داعش مخالف جنگ میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔

کینیڈا میں حالیہ عام انتخابات میں لبرل پارٹی نے کنزرویٹو پارٹی کو شکست دی تھی اور جسٹن ٹروڈو وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔انھوں نے انتخابی مہم کے دوران لڑاکا جیٹ طیاروں کی کینیڈا واپسی اور جنگی مشن کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا۔انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ ان کی لبرل حکومت ذمہ دارانہ انداز میں انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کو پورا کرے گی۔

کنزرویٹو پارٹی کے ارکان نے سوموار کو پارلیمان میں امریکی صدر براک اوباما کی گذشتہ اتوار کی ایک تقریر کا حوالہ دیا تھا جس میں انھوں نے داعش مخالف کارروائیوں میں شریک امریکی اتحادیوں کا نام لے کر تذکرہ کیا تھا لیکن کینیڈا کا ذکر نہیں کیا تھا۔

کنزرویٹو پارٹی کی عبوری لیڈر رونا امبروز نے کہا کہ ''جب ہمارے اتحادی داعش مخالف جنگ میں آگے بڑھ رہے ہیں تو وزیراعظم پیچھے کیوں ہٹ رہے ہیں۔اس کے جواب میں وزیراعظم ٹروڈو نے کہا کہ ''وہ ان ایشوز پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہیں اور انھوں نے مجھے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم مددگار رہیں گے''۔

کینیڈا نے گذشتہ سال مشرق وسطیٰ کے خطے میں مارچ 2016ء تک اپنے سی ایف 18 لڑاکا جیٹ بھیجے تھے۔اس کے علاوہ اس نے شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں کی تربیت کے لیے خصوصی فورسز سے تعلق رکھنے والے قریباً ستر فوجی بھی بھیجے تھے۔یہ فوجی ٹرینر وہیں موجود رہیں گے۔