.

امریکا، سعودی عرب سے تیل درآمد کرنے پر مجبور!

تیل کی صنعت میں خود کفیل ہونے کے دعوے دار امریکی بحران سے دوچار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی منڈی میں امریکی خام تیل کی قیمت اچانک سنہ 2009ء کے بعد نچلی ترین سطح پر آئی تو امریکا کی تیل کی صنعت کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ اسی روز امریکی معیشت کو دوسرا بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب امریکی آئل ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ذخیرہ ہونے والے امریکی تیل کی مقدار میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے جب کہ تیل کی پیدوار میں آئندہ سال کے وسط تک غیر معمولی کمی کا اندیشہ ہے، تاہم سنہ 2016ء کی آخری سہ ماہی میں امریکا میں تیل کی پیداوار میں اضافے کی خبر سامنے آ سکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکن آئل پروڈکشن انفارمیشن ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ اعدا د وشمار میں بتایا گیا ہے کہ پیش آئند مالی سال کے دوران امریکی تیل کی پیداوار 8.8 ملین بیرل یومیہ رہے گی جب کہ سال رواں میں امریکا میں تیل کی پیداوار 9.3 ملین بیرل یومیہ ہے۔ امریکی تیل کی صنعت زوال کے جن اشاریوں کی نشاندہی کر رہی ہے اس سے یہ آشکار ہے کہ آنے والے چند مہینے امریکی تیل کی صنعت کے لیے بُرے ثابت ہوں گے۔

عالمی منڈی میں امریکل آئل پروڈکشن پلیٹ فارمز کی تعداد کم ہوتے ہوئے 545 پلیٹ فام پر آ گئی ہے۔ صرف ایک ہفتے کے دوران امریکی تیل کے پروڈکشن پلیٹ فارمز میں 10 پلیٹ فارمز کی کمی آئی ہے۔ امریکی تیل کی صنعت کے زوال کو سمجھنے کے لیے صرف یہ مثال ہی کافی ہے کہ ایک سال قبل عالمی کروڈ آئل میں امریکی تیل کے 1609 پلیٹ فارم سرگرم تھے۔

امریکی تیل کی صنعت میں ہونے والا اتار چڑھاؤ ماضی میں لگائے گئے تخمینوں کے برعکس ہے۔ امریکی آئل پروڈکشن ایجنسی کی جانب سے ایک سال پیشتر یہ کہا گیا تھا کہ امریکا سنہ 2020ء تک یومیہ 12 ملین بیرل تیل پیدا کرتا رہے گا۔

تیل برآمد کرنے پر مجبور

قدرتی تیل میں اور توانائی کی ضروریات میں خود کفیل ہونے کے دعوے دار امریکی تیل کی اپنی صنعت کے زوال کے بعد دوسرے ملکوں سے تیل درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔ امریکیوں کے اس وقت وارے نیارے تھے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ تھی۔ اس وقت یہ دعوے عام تھے کہ امریکا کو توانائی کی ضروریات کے لیے کسی دوسرے ملک پر انحصار نہیں کرنا پڑ رہا ہے اور مستقبل قریب میں تیل کی قیمت میں کسی غیرمعمولی تبدیلی کا امکان نہیں ہے، مگر امریکا کے یہ اندازے غلط ثابت ہوئے۔

روز افزوں ترقی کی طرف بڑھتی امریکی تیل کی صنعت کے نتیجے میں واشنگٹن نے سنہ 2013 میں سعودی عرب سے تیل کی درآمد کر کے 46 ملین بیرل کر دی تھی۔ یہ مقدار سنہ 2012ء کی نسبت 25 ملین بیرل کم تھی۔ جیسے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دھڑام سے نیچے آن گریں تو امریکیوں کو اپنی تیل کی صنعت میں آنے والے بونچال کا اندازہ ہو گیا۔

امریکی تیل پر انحصار کرنے والی عالمی کمپنیاں بھی زوال کی لہروں کے تھپیڑوں کا سامنا کر رہی ہے۔ بڑی بڑی کمپنیوں کا سرمایہ ڈوب گیا، ہزاروں ملازم فارغ اور خام تیل میں مارکیٹنگ کے پلیٹ فارم بند کرنا پڑے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ یہاں رکنے والا نہیں۔ امکان ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 40 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے جا سکتی ہے۔

عوام خوش، مگر حکومت خسارے میں

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گرنے سے امریکی حکومت کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر اس کا فائدہ ایک عام امریکی صارف کو ضرور پہنچا ہے۔ امریکا میں دو ڈالر فی گیلن تیل خرید کرنے والے شہریوں کو اب وہی گیلن نصف ڈالر میں مل رہا ہے۔ امریکا میں اس وقت ایک لیٹر آئل کی قیمت دو سال کی کم ترین سطح پر ہے۔

دوسرے الفاظ میں امریکی شہری سالانہ کھربوں ڈالر کی بچت کر رہے ہیں اور یہ بچت انہیں زندگی کی دیگر ضروریات کی تکمیل میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ ایک اعتبار سے حکومت کو اس میں بھی فایدہ ہے کیونکہ تیل کے سوا دیگر شعبوں میں امریکی معیشت میں بہتری آئی ہے۔ ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور فضائی سروس مہیا کرنے والی فرموں کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں کاریں تیار کرنے والی فرموں کو بھی غیر معمولی فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے۔ گھریلو استعمال اور اسپورٹس کاروں کی طلب بڑھ گئی ہے۔ پچھلے دس سال کے دوران یہ کمپنیاں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ہاتھوں پریشان تھیں مگر اب انہیں کمانے کا بھرپور موقع مل گیا ہے۔