.

الرمادی میں جنگ ،امریکا لڑاکا ہیلی کاپٹر بھیجنے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا داعش کے زیر قبضہ عراق کے مغربی شہر الرمادی کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے عراقی سکیورٹی فورسز کو لڑاکا ہیلی کاپٹر بھیجنے کو تیار ہے۔

یہ بات امریکی وزیر دفاع آشٹن کارٹر نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے روبرو بیان میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''عراقی فوج نے صوبہ الانبار کے دارالحکومت پر دوبارہ قبضے کے لیے پیش قدمی شروع کردی ہے۔امریکا عراقی فوج کی اضافی صلاحیتوں کے ساتھ مدد دینے کو تیار ہے''۔

انھوں نے کہا کہ اگر حالات تقاضا کرتے ہیں اور عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کی جانب سے درخواست آتی ہے تو عراقی فوج کے لیے اپاچی ہیلی کاپٹروں اور فوجی مشیروں کی شکل میں مزید کمک بھِیجی جائے گی۔

امریکا کے ایک دفاعی عہدے دار نے کہا ہے کہ سیکریٹری دفاع عراق میں پہلے سے موجود اپاچی ہیلی کاپٹروں کا حوالہ دے رہے تھے۔وہ اس وقت فورس کے تحفظ کا کردار ادا کررہے ہیں اور انھیں وقتِ ضرورت جنگی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے اس کی وضاحت تو نہیں کی ہے لیکن 2011ء میں عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ اپاچی ہیلی کاپٹروں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔اس سے پہلے گذشتہ سوا ایک سال سے امریکا کے لڑاکا طیارے ہی عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔

اس کے علاوہ عراق میں امریکا کے ساڑھے تین ہزار فوجی موجود ہیں جو عراقی سکیورٹی فورسز کو تربیت دے رہے ہیں،ان کی داعش کے خلاف جنگ میں معاونت کررہے ہیں اور انھیں مشورے دے رہے ہیں۔

آشٹن کارٹر نے سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ عراقی فوج اور انسداد دہشت گردی کے یونٹوں نے الرمادی کے نواحی علاقوں میں مختلف اطراف سے داخل ہونا شروع کردیا ہے اور دریائے فرات کے کنارے واقع ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔یہ ایک اہم پیش رفت ہے لیکن ابھی سخت لڑائی ہونے والی ہے اور داعش نے متعدد مرتبہ شدید جوابی حملے کیے ہیں۔

عراقی فوج اور اس کی اتحادی شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی نے ایک روز پہلے شدید لڑائی کے بعد آل تمیم کے علاقے پر دوبارہ کنٹرول کیا ہے۔داعش کے خلاف اس جنگی کامیابی کو ایک نمایاں پیش رفت قراردیا جارہا ہے۔

آل تمیم دریائے فرات کے ایک کنارے کی جانب واقع ہے اور اب عراقی فورسز کے اہلکار اس علاقے کو داعش کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں یا بموں سے پاک کررہے ہیں۔ عراقی فوج کو داعش کے خلاف اس جنگ میں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کی فضائی مدد حاصل ہے اور وہ الرمادی کے نواح میں داعش کے ٹھکانوں ،اسلحہ ڈپوؤں اور اہم اہداف پر حملے کررہے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے اس سال مئی میں عراقی فوج کو شکست دینے کے بعد بغداد سے ایک سو پندرہ کلومیٹر مغرب میں واقع الرمادی پر قبضہ کیا تھا۔تب وہاں عراقی فوجی اپنی چوکیوں کو چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر گئے تھے۔قبل ازیں عراقی فورسز نے حالیہ مہینوں کے دوران الرمادی کے شمال اور مغرب میں واقع بعض علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھااور وہاں سے داعش کے جنگجو پسپا ہوگئے تھے۔