.

امریکا: شر پسندوں نے مسجد میں خنزیر کا سر پھینک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں انتہا پسند حلقے حالیہ دنوں میں اسلام کے خلاف منافرت پر مبنی واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اسلام فوبیا کے اسیر شرپسندوں نے امریکی ریاست فلاڈیلفیا کی ایک مسجد میں خنزیر کاکٹا سر پھینک کر مسلمانوں کے مقدس مقام کی بے حرمتی کا ارتکاب کر کے مسلمانوں کے جذبات میں اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

فلاڈیلفیا کی ایک جامع مسجد کی منتظم کمیٹی کے عہدیدار نے بتایا کہ انہیں مسجد کے اندرونی ہال سے سؤر کا کٹا سرملا ہے جو مبینہ طورپر شرپسند عناصر کی جانب سے مسجد میں پھینکا گیا تھا۔ فرانس میں گذشتہ ماہ ہونے والی دہشت گردی کے بعد امریکا میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ پیرس دہشت گردی کے بعد فلاڈیلفیا کی مسجد پر اسلام میں انتہائی مکروہ سمجھے جانے والے 'خنزیر' جیسے جانور کا کٹا سر پھینکنے کا پہلا واقعہ ہے۔ امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے'ایف بی آئی' نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم آخری اطلاعات تک کسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔

ایک مقامی امریکی مسلمان نے بتایا کہ مسجد انتظامیہ کو چند روز قبل ای میل کے ذریعے دھمکی آمیز پیغامات ارسال کیے گئے تھے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کا استعمال کیا گیا تھا۔ وہ تمام تفصیلات بھی ایف بی آئی کےحوالے کردی گئی ہیں۔ انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسجد میں خنزیر کا کٹا ہوا سر پھینکنا نہایت تشویشناک اور ناقابل برداشت عمل ہے۔ یہ حرکت جس نے بھی کی ہے اس کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ مسجد کی بے حرمتی کرنے میں وہی عناصر ملوث ہوسکتے ہیں جو دھمکی آمیز ای میل بھی ارسال کرچکے ہیں۔

فلاڈیلفیا کے میئرجیم کینی کا کہنا ہے کہ ہم اپنے ملک میں کسی بھی طبقے کے خلاف نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ریاست کے تمام شہریوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس شرمناک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ایسے عناصر کی نشاندہی میں حکومت کی مدد کریں۔

خیال رہے کہ امریکی ریاست میں مسجد میں خنزیر کا کٹا سر پھینک کر مقدس مقام کی بے حرمتی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکا کی صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل انتہا پسند خیالات کے حامل ریپبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک بھر میں موجود تمام مساجد کو بند کرنے اور مسلمانوں کا امریکا میں داخلہ منع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے اس اشتعال انگیز بیان پر عالمی برادری میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔