.

جرمن چانسلر سال رواں کی بہترین شخصیت ہیں: ٹائم میگزین

ٹرمپ 'پرسن آف دی ائر' نہ بنائے جانے پر ٹائمز پر برس پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی جریدے ٹائم نے جرمن چانسلر اینجیلا مرکل کو ’پرسن آف دا ایئر‘ قرار دے دیا ہے۔ میگزین کے مطابق کہ مہاجرین اور یورو کرنسی کے بحرانوں میں مرکل نے قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی جریدے نے اپنے حالیہ اعلان میں بتایا کہ اس نے رواں برس کے ’پرسن آف دا ایئر‘ اعزاز کے لیے جرمن چانسلر اینجیلا مرکل کو منتخب کیا ہے۔ اس وقت مسلسل تیسری مرتبہ جرمن سربراہ حکومت کے عہدے پر فائز اس خاتون سیاستدان نے مہاجرین کے بحران، یونان کے مالیاتی بحران اور یورو کرنسی کو لاحق ہونے والے خطرات کے دوران نہ صرف انتہائی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا بلکہ انہوں نے یورپی یونین کو متحد رکھنے میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔

مرکل ایسی چوتھی خاتون بن گئی ہیں، جنہیں اس معتبر اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ قبل ازیں برطانوی ملکہ الزبتھ ثانی کو بھی یہ اعزاز دیا جا چکا ہے۔ امریکی جریدہ ٹائم 1927ء سے ہر سال کسی ایسی شخصیت کو ’پرسن آف دا ایئر‘ کا خطاب دیتا ہے، جس نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں انتہائی گراں قدر خدمات سر انجام دی ہوں۔

ٹائم نے رواں برس اس اعزاز کے لیے اینجیلا مرکل کا انتخاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قدامت پسند خاتون سیاستدان نے مختلف بحرانوں کے دوران بھی یورپی یونین کو متحد رکھا۔ ٹائم کے مطابق جس طرح میرکل نے مہاجرین کو خوش آمدید کہا کہ وہ جدید تاریخ میں سب سے زیادہ فراخدالانہ عمل ہے۔

رواں برس جرمنی میں پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد ایک ملین تک پہنچ چکی ہے۔ مہاجرین کے بحران پر ان کے ردعمل کو خود مرکل کے سیاسی اتحاد کی طرف سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم مرکل ڈٹی ہوئی ہیں کہ اس مشکل وقت میں ان بے گھر افراد کی مدد کرنا یورپ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے جرمنی کے لیے زیادہ سے زیادہ مہاجرین کی حد کے تعین کو بھی خارج از امکان قرار دے رکھا ہے۔

دوسری طرف امریکا میں ریپبلکن سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹائم میگزین کے اس فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ایک ایسی شخصیت کو اس اعزاز سے نوازا ہے، جو ’جرمنی کو تباہ‘ کر رہی ہے۔ ارب پتی بزنس مین اور امریکی صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ بھی ٹائم کے ’پرسن آف دا ایئر‘ کے مقابلے میں شریک تھے لیکن وہ اس تناظر میں تیسرے نمبر پر رہے۔