.

روس شام میں سُنی آبادی کی نسل کشی کا مرتکب ہے: ترکی

عراق میں فوجی مداخلت بغداد کے تحفظ کے لیے ہے: اوگلو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ترکی کے وزیراعظم احمد #داؤد_اوگلو نے الزام عاید کیا ہے کہ روسی فوج شمالی #شام کے #سنی اکثریتی شہر #اللاذقیہ میں اہل سنت مسلک کی آبادی کی نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روسی فوج جن علاقوں میں آپریشن کی آڑ میں کارروائیاں کر رہی ہے وہاں پر ترکمان اور سنی مسلمان مقیم ہیں۔ شامی حکومت روسی فوج کی مدد سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اللاذقیہ سے سنیوں اور ترکمانوں کو وہاں سے نکال باہرکرنا چاہتی ہے تاکہ للاذقیہ میں روسی اور شامی فوجوں کا محفوظ مرکز بنانے میں مدد لی جاسکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مطبق اپنے ایک انٹرویو میں ترک وزیراعظم کا کہنا تھا کہ روسی فوج نے اب تک شام میں جتنے بھی حملے کیے ہیں ان کےنتیجے میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی ’’#داعش‘‘ زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔

احمد داؤد اوگلو کا کہنا تھا کہ روسی فوج شمالی شام کے اللاذقیہ شہر میں ترکمان اور سنی آبادی کی نسل کشی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ چونکہ ترکمان اور سنی آبادی شامی حکومت کی حمایت نہیں کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں طرطوس اور اللاذقیہ میں نسل کشی کا سامنا ہے۔

#روس کا جنگی جہاز مار گرائے جانے کے بعد #ماسکو اور #انقرہ میں پیدا ہونے والے تنازع کے حوالے سے ترک وزیراعظم نے کہا کہ ہم دو طرف کشیدگی کے خاتمے کےلیے کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رابطے اور ہم آہنگی کے بغیر کوئی بھی کارروائی حادثے کا موجب بن سکتی ہے۔ روس نے فوجی کارروائی سے قبل ہم سے کسی قسم کا رابطہ کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

عراق میں ترک فوج کی موجودگی

عراق میں ترک فوج داخل کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں احمد داؤد اوگلو کا کہنا تھا کہ شمالی عراق میں فوج اس لیے داخل کی گئی کیونکہ وہاں پر دولت اسلامی ’’داعش‘‘ مضبوط ہونے کی کوشش کررہی ہے۔ ترک فوجوں کی #عراق میں مداخلت جارحیت نہیں بلکہ بغداد کے ساتھ تعاون ہی کی ایک شکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ شمالی عراق سے داعش کی جانب سے ترک فوج کو دھمکیوں اور خطرات کا سامنا تھا۔ ان خطرات کے تدارک کے لیے فوج داخل کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں داعش کے خلاف کارروائی کرنے والی ترک فوج کے پاس ہلکے ہتھیار ہیں۔ ہم عراق میں امن وامان کے قیام میں مدد کے لیے وہاں گئے ہیں اسے جارحیت نہ سمجھا جائے۔