"بیٹے کے عزائم کا علم ہوتا تو اسے خود مار دیتا"

پیرس حملوں کے تیسرے ملزم فواد عقاد کے والد کا جذباتی ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ ماہ پیرس کے بتاکلان کانسرٹ ہال پر حملہ کرنے والے تیسرے مسلح نوجوان کے والد کا کہنا ہے کہ انہیں اگر اپنے بیٹے کی منصوبہ بندی کا پہلے علم ہوتا تو وہ اسے اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیتے۔

سعید محمد العقاد نے خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ تمام قوم کی طرح انہیں بھی بدھ ہی کے روز معلوم ہوا کہ ان کا 23 سالہ بیٹا فواد ان تین مسلح افراد میں شامل تھا جنہوں نے تیرہ نومبر کو بتاکلان کانسرٹ ہال میں اندھا دھند فائرنگ کر کے 90 افراد کو ہلاک کیا۔

فرانسیسی شہر سٹراس برگ کے علاقے بش ہائم میں اپنے گھر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد عقاد کا کہنا تھا کہ میرے لئے یہ یقیناً انتہائی حیرانگی کی بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مجھے یہ بات پہلے معلوم ہوتی کہ میرا بیٹا قتل عام کی ایک ایسی کارروائی میں حصہ لینے والا، جس میں 130 افراد کی جان جائے گی تو میں اسے اپنے ہاتھ سے ہی قتل کردیتا۔

محمد عقاد کا کہنا تھا کہ انہیں علم تھا کہ ان کا بیٹا 2013ء سے شام گیا ہوا ہے مگر انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ فرانس واپس آ چکا ہے۔

"میں نے جب اسے آخری بار دیکھا تو وہ دو سال پہلے کا وقت تھا جب وہ شام جا رہا تھا۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں، مجھے بھی آج صبح ہی معلوم ہوا ہے۔ مجھے اپنے آپ کو سنبھالنا ہو گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں