.

ڈونلڈ ٹرمپ کا برطانیہ میں داخلہ روکنے کے لیے دستخطی مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ آیندہ سال صدارتی انتخاب تو شاید نہ لڑ سکیں لیکن انھوں نے مسلمانوں کے خلاف اپنے متنازعہ اور اشتعال انگیز بیانات سے شہرت اور توجہ بھرپور حاصل کر لی ہے۔انھوں نے اپنے بیانات سے اتنا اشتعال پھیلایا ہے کہ اب برطانیہ میں ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ان کے ملک میں داخلے پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

برطانیہ میں ان لاکھوں شہریوں نے ایک آن لائن پٹیشن پر درخواست کیے ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن اس کے باوجود برطانوی وزیرخزانہ جارج اوسبورن کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی عاید نہیں ہونی چاہیے۔

برطانوی حکومت نے اس دستخطی مہم کے جواب میں یہ کہا ہے کہ اگر اس پر دستخطوں کی تعداد ایک لاکھ ہوجاتی ہے تو اس معاملے کو پارلیمان میں بحث کے لیے پیش کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی ایک ترجمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو نامناسب قراردیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اسکاٹ لینڈ میں دو گالف کورسز کے مالک ہیں اور وہ اس سال کے اوائل میں وہاں آئے تھے۔انھوں نے کیلی فورنیا میں گذشتہ ہفتے فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک بیان میں مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر مکمل پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہنی چاہیے جب تک ہم اپنے تمام معاملات سدھار نہیں لیتے ہیں۔

ان کے اس بیان کو منافرت انگیز قرار دیا گیا ہے اور بہت سے امریکیوں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کی بنیادی اقدار ہی کو ختم کرنے کے درپے ہوگئے ہیں۔واضح رہے کہ برطانیہ میں ماضی میں کسی مذہب کے پیروکاروں کے خلاف نفرت پر مبنی بیانات جاری کرنے والی شخصیات پر پابندی عاید کی جاتی رہی ہے۔

برطانیہ میں ٹرمپ مخالف دستخطی مہم چلانے والوں نے اپنی پٹیشن میں لکھا ہے:''اگر برطانیہ اپنی سرحدوں سے داخل ہونے والوں پر ناقابل قبول طرز عمل کے معیار کا اطلاق جاری رکھتا ہے تو اس کو منصفانہ انداز میں اس کا غریبوں کے ساتھ امیروں اور کمزوروں کے ساتھ طاقتوروں پر اطلاق جاری رکھنا چاہیے''۔

یہ مہم اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والی سوزان کیلی نے شروع کی تھی۔وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایبرڈین شائر میں گالف کورس پر ایک طویل عرصے سے تنقید کرتی چلی آرہی ہیں۔

درایں اثناء ایبرڈین کی رابرٹ گورڈن یونیورسٹی نے بدھ کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اطلاع دی ہے کہ وہ 2010ء میں ٹرمپ کو جاری کردہ اعزازی ڈگری ان کے حالیہ اشتعال انگیز اور منافرت آمیز بیانات کے بعد منسوخ کررہی ہے کیونکہ ان کے یہ بیانات جامعہ کی اقدار اور روایات سے کوئی علاقہ نہیں رکھتے ہیں۔اسکاٹش وزیراول نکولا اسٹرجین نے بھی مسٹر ٹرمپ کو اسکاٹ لینڈ کے اعزازی کاروباری سفیر کے عہدے سے سبکدوش کردیا ہے۔