برطانیہ نے فلک بوس عمارتوں کا قطری ریکارڈ توڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں فلک بوس عمارتیں بنانے کا بھی ایک مقابلہ جاری ہے۔ خلیجی ریاست قطر بلند ترین عمارات میں یورپ سے بھی آگے ہے مگر اب برطانیہ دوحہ سے اس کا ریکارڈ چھین کراپنے نام کرنے والا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانیہ میں دریائے ٹیمز کے کنارے واقع ’’چارڈ‘‘ٹارو ایک ایسی ہی بلند ترین عمارت ہو گی جو اونچائی میں قطر کی حالیہ ٹاور سے بلند ہو گی۔ یوں برطانیہ قطر کے بعد پورے یورپ میں سب سے بلند ترین عمارت تعمیر کرنے والا ملک بن جائے گا۔

’’چارڈ ٹاور‘‘ قطر کی بلند وبالا عمارت کی نسبت کئی میٹر اونچا ہو گا۔ اس کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد برطانیہ نہ صرف بلند ترین عمارات بنانے والے ملکوں میں شامل ہو جائے گا بلکہ چارڈ ٹاور کا شمار براعظم یورپ کے چار فلک بوس ٹاوروں میں ہو گا۔ اس کی اونچائی 309.6 میٹر ہو گی اور پوری دنیا میں اس کا 87 واں نمبر ہو گا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ’’چارڈ ٹاور‘‘ کی اونچائی کے برابر لندن میں ایسا ہی دوسرا ٹاور بھی زیر غور ہے۔ لندن حکام کا کہنا ہے کہ اس ٹاور کی 73 منزلیں ہوں گی۔ اس کے ڈیزائن کی تیاری کا کام سنگا پور کی ’’آرو لینڈ‘‘ نامی کمپنی کو دیا گیا ہے۔ یہ ٹاور چارڈ ٹاور کے ساتھ ساتھ مغربی یورپ کی بلند ترین عمارت ہو گی۔

برطانوی اخبار’’ٹائمز‘‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنگا پور کی جس تعمیراتی کمپنی کو ٹاور کے ڈیزاین کا خاکہ تیار کرنے کو کہا گیا ہے اس میں مختلف کمپنیوں کے سیکڑوں دفاتر کی گنجائش ہو گی اور 10 ہزار افراد اس کی تعمیر میں حصہ لیں گے۔ سب سے آخری منزل سیاحوں کے لیے مختص کی جائے گی جہاں سے پورے لندن کا نظارہ کیا جا سکے گا۔ توقع ہے کہ آئندہ سال اس منصوبے کی منظوری کے لیے لندن کی مقامی حکومت کے سامنے پیش کیا جائے۔

اخبار’’ڈیلی ٹیلیگراف‘‘ کے مطابق نئے مجوزہ ٹاور کے لیے ’’ One Undershaft‘‘ کا نام رکھا جا سکتا ہے۔ ’’چارڈ ٹاور‘‘ کی طرف اس کی بھی 73منزلیں ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں