''بشارالاسد داعش سے تیل کی تجارت میں ملوّث ہیں''

داعش سے تیل کی کچھ مقدار کرد علاقوں اور کچھ ترکی کو جارہی ہے:امریکی عہدے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی محکمہ خزانہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے دعویٰ کیا ہے کہ داعش نے تیل کی تجارت سے پچاس کروڑ ڈالرز سے زیادہ دولت کما لی ہے۔اس تیل کی نمایاں مقدار شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کو فروخت کی گئی تھی جبکہ کچھ مقدار ترکی کی جانب گئی تھی۔

محکمہ خزانہ کے عہدے دار ایڈم زوبین نے پہلی مرتبہ داعش کے تیل کے کاروبار سے متعلق تفصیل جاری کی ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجو شام میں تیل کی تنصیبات پر ہرماہ چارکروڑ ڈالرز مالیت کا تیل فروخت کررہے ہیں۔یہ تیل پھر ٹرکوں کے ذریعے شام کے خانہ جنگی کا شکار دوسرے علاقوں کی جانب لے جایا جاتا ہے اور بعض اوقات اس سے بھی آگے سرحد پار پہنچا دیا جاتا ہے۔

مسٹر زوبین امریکی محکمہ خزانہ میں دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے قائم مقام انڈر سیکریٹری ہیں۔انھوں نے داعش کے تیل کے کاروبار سے متعلق یہ تفصیل بطانوی تھنک ٹینک چیتم ہاؤس لندن میں ایک مباحثے کے دوران بیان کی ہے۔انھوں نے کہا کہ داعش تیل کی بہت بڑی مقدار کو بشارالاسد کی حکومت ہی کو فروخت کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ دونوں یعنی داعش اور اسد حکومت ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ایک دوسرے سے تیل کا کروڑوں ڈالرز کا لین دین بھی کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے تیل کی بڑی مقدار بشارالاسد کی حکومت کے کنٹرول والے علاقوں میں پہنچتی ہے ۔کچھ مقدار داعش کے کنٹرول والے علاقوں ہی میں استعمال ہوتی ہے،تیل کا پیداوار کا کچھ حصہ کرد علاقوں اور کچھ سرحد پار ترکی پہنچادیا جاتا ہے۔

مسٹر زوبین کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ داعش کو تیل کی تجارت سے حاصل ہونے والے ماہانہ چار کروڑ ڈالرز ہی بڑھتے چلے جارہے ہیں۔البتہ انھوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ داعش نے تیل کی تجارت سے پچاس کروڑ ڈالرز سے زیادہ رقم اکٹھی کر لی ہے لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ رقم کتنے عرصے میں اکٹھی کی گئی ہے۔

داعش نے گذشتہ سال جون میں شام اور عراق میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں اپنی خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں تیل کی تنصیبات سے تیل کی فروخت شروع کردی تھی۔شامی فوج اور امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے گذشتہ سوا ایک سال سے داعش کے ٹھکانوں اور تیل کی تنصیبات پر مسلسل فضائی حملے کررہے ہیں۔

بشارالاسد کا اہم اتحادی روس 30 ستمبر سے داعش کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کررہا ہے۔روسی لڑاکا طیارے خاص طور پر داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں تیل صاف کرنے کے کارخانوں ،تیل کے کنوؤں اور آئیل ٹینکروں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔برطانیہ کی شاہی فضائیہ بھی گذشتہ جمعرات سے شام میں داعش کے خلاف فضائی مہم میں شامل ہوگئی ہے۔اس کے طیاروں نے بھی سب سے پہلے صوبے الرقہ میں واقع داعش کے زیر قبضہ تیل کی تنصیبات کو بمباری میں نشانہ بنایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں