تیونس: لیبی فریقوں میں عالمی ایلچی کی ثالثی میں مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا کی متحارب حکومتوں کے نمائندوں کا پڑوسی ملک تیونس کے دارالحکومت میں اجلاس ہوا ہے جس میں انھوں نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کے لیے طے شدہ متنازعہ ڈیل پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے لیبیا کے لیے امدادی مشن نے کہا ہے کہ یہ بات چیت لیبیا کے بارے میں اتوار کو روم میں ایک بین الاقوامی اجلاس سے قبل ہوئی ہے۔تیونس کے نواح میں ایک ہوٹل میں ہونے والے ان مذاکرات میں لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے نئے ایلچی مارٹن کوبلر اور دونوں متوازی پارلیمان کے نمائندے شریک تھے جبکہ غیرملکی سفارت کاروں کو مبصر کے طور پر شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

مارٹن کوبلر نے بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''مجھے مذاکرات سے حوصلہ ملا ہے۔میں زیادہ اعتماد کے ساتھ آیندہ بات چیت میں شریک ہوں گا کیونکہ ہم روم اجلاس کے لیے پیغامات کی تشریح کی کوشش کررہے ہیں۔عالمی برادری اس عمل میں بہت سنجیدہ ہے۔خاص طور پر اس کو دہشت گردی سے لاحق ہونے والے خطرے سے تشویش لاحق ہے۔اس لیے لیبیا میں بہت جلد ایک متحدہ قومی حکومت قائم ہونی چاہیے''۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے اطالوی ہم منصب پاؤلو گینٹی لونی اتوار کو لیبیا میں جاری تنازعے کے حل کے لیے ہونے والے مذاکرات کی مشترکہ طور پر صدارت کریں گے۔روس ،برطانیہ ،چین اور فرانس کے نمائندے بھی اس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

امریکا اور لیبیا کے لیے یورپی یونین کے رکن متعدد ممالک کے سفیروں نے منگل کے روز خبردار کیا تھا کہ اگر اقوام متحدہ کی ثالثی میں گذشتہ ماہ طے پانے والے معاہدے کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین مضمرات ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آگے بڑھنے کا یہی ایک راستہ ہے۔

انھوں نے یہ بیان لیبیا کی متحارب پارلیمانوں کی جانب سے اقوام متحدہ کی شرکت کے بغیر گذشتہ اتوار کو الگ سے ایک سمجھوتے کے اعلان کے بعد جاری کیا تھا۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے مجوزہ معاہدے کی مخالفت کرنے والوں پر زوردیا تھا کہ وہ لیبی عوام کے مفاد میں ذمے دارانہ انداز میں فوری طور پر اقدام کریں۔

مگر اس ڈیل کو لیبیا کے مشرقی شہر طبرق میں قائم عالمی سطح پر تسلیم شدہ پارلیمان اور طرابلس میں اس کی حریف جنرل نیشنل کانگریس نے مسترد کردیا تھا۔انھوں نے اس کی جگہ گذشتہ اتوار کو بحران کے حل کے لیے''اصولوں کے ایک مشترکہ اعلامیے'' کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ سیاسی تعطل دور کرنے کے لیے لیبیا کی دونوں متوازی پارلیمان کی منظوری کے بعد اس سمجھوتے پر عمل درآمد کا آغاز ہو جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں