ترک فوجی فی الحال عراق ہی میں رہیں گے: صدر ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ عراق سے ترک فوجیوں کے انخلاء کا فی الحال کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

صدر طیب ایردوآن نے ایک نیوزکانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک فوجی عراق میں کرد ملیشیا البیشمرکہ کی تربیت کے لیے موجود ہیں اور ان کا کوئی جنگی مقصد نہیں ہے۔انھوں نے اپنے پہلے ایک بیان کا اعادہ کیا ہے کہ ترک فوجیوں کو عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کی دعوت پر بھیجا گیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''شمالی عراق میں فوجیوں کی کمی وبیشی کا انحصار البیشمرکہ کے تربیت پانے والے فوجیوں کی تعداد پر ہے اور فی الحال وہاں سے ہمارے فوجیوں کے انخلاء کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا''۔

صدر ایردوآن نے کہا کہ 21 دسمبر کو ترکی ،امریکا اور شمالی عراق کے کرد حکام کے درمیان سہ فریقی اجلاس ہوگا لیکن انھوں نے بغداد حکومت کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے کچھ نہیں کہا ہے۔

واضح رہے کہ شمالی عراق میں ترک فوجیوں کی تعیناتی کے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوچکا ہے اور عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کا موقف ہے کہ ان فوجیوں کو ان کی رضا مندی کے بغیر بھیجا گیا ہے۔انھوں نے ترکی سے ان فوجیوں کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

عراق کی وزارت خارجہ نے بغداد میں تعینات ترک سفیر کو طلب کرکے ان سے اس معاملے پر احتجاج کیا تھا۔وزارت خارجہ کا بھی کہنا تھا کہ ترک فوجی بغداد کے علم میں لائے بغیر عراقی علاقے میں داخل ہوئے تھے۔

ترک وزیرخارجہ مولود کاوس اوغلو نے اپنے عراقی ہم منصب سے اسی ہفتے بات کی تھی اور ان پر واضح کیا تھا کہ ترکی عراق کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ عراق کے اعتراض کے بعد کرد فورسز کی تربیت کے لیے مزید فوجیوں کی تعیناتی روک دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں