.

’داعش شام کے جعلی پاسپورٹس استعال کرسکتی ہے‘

جنگجو شامی شہریوں کی معلومات چوری کرسکتے ہیں: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامی ’’#داعش‘‘ کے جنگجو دنیا کے مختلف ملکوں میں سفر کے لیے #شام کے جعلی پاسپورٹس استعمال کرسکتے ہیں۔ امریکی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش کے اس جعلی سفری دستاویزات بالخصوص جعلی پاسپورٹس تیار کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی محکمہ ایمی گریشن و کسٹمزکی خاتون ترجمان نے ’’سی این این‘‘ پر شام کے جعلی پاسپورٹس کی تیاری اور داعش کی جانب سے اس کے استعمال سے متعلق نشر کی گئی خبر کی تصدیق کی اوراس رپورٹ کا حوالہ دیا جسے نشر کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

’’سی این این‘‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش کے پاس جعلی پاسپورٹس تیار کرنے کے لیے طباعت واشاعت کے جدید ترین آلات موجود ہیں اور وہ جعلی پاسپورٹس سمیت ہر قسم کی دستاویزات تیار کرسکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش کی صفوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایسے ماہرین بھی موجود ہیں جو عام شہریوں کی ذاتی معلومات تک رسائی کے ساتھ شامی باشندوں کے فنگرپرنٹس تک چوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا کے مختلف ٹی وی چینلوں بالخصوص ’’اے بی سی نیوز‘‘ پر جمعرات کے روز رپورٹ نشر کی گئی تھی جس میں وزارت داخلہ کی ایک تحقیقاتی ایجنسی کی تیار کردہ رپورٹ کا حوالہ دیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں امریکی حکام نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ داعشی شدت پسند دنیا کے مختلف ملکوں میں سفر کے لیے جعلی دستاویزات تیار اور شام کے جعلی پاسپورٹس تیار کرسکتے ہیں۔

’’اے بی سی نیوز‘‘ نے امریکی محکمہ داخلہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ شام کے شہر #الرقہ اور #دیر_الزور پر داعش کے قبضے کے 17 ماہ بعد وہاں کے باشندے شامی پاسپورٹس کے ذریعے دنیا کے کسی بھی ملک میں جاسکتے ہیں۔ ان شہروں سے تعلق رکھنے والے شامی باشندے سرکاری پاسپورٹس پر #امریکا سمیت دوسرے ملکوں میں بھی سفرکرتے رہے ہیں۔ داعش اپنے خطرناک عزائم کی تکمیل کے لیے جعلی پاسپورٹس تیار کرکے اپنے جنگجو کہیں بھی بھیج سکتی ہے۔

خیال رہے کہ جمعہ کو امریکی وزیر خارجہ #جان_کیری سے ’’اے بی سی نیوز‘‘ پر نشر کی گئی رپورٹ کے بارے میں ایک سوال پوچھا گیا تھا۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ انہیں امریکی وزارت داخلہ کی رپورٹ کے بارے میں اخبارات سے اطلاعات ملی ہیں لیکن اس میں کوئی بعید نہیں کہ داعش ایسا کرسکتی ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کے ایک عہدیدار جیمز کامی کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں داعش کے بارے میں سخت تشویش لاحق ہے کیونکہ داعشی جنگجوئوں کے پاس جعلی پاسپورٹس تیار کرنے کے وسائل موجود ہیں۔