.

"غربت میں محبت بھی فرو ہو جاتی ہے"

40 ہزار ریال کا بل دیکھ کر صدقے واری جانے والا شوہر بیگم کو دکان میں چھوڑ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کہتے ہیں کہ غربت میں محبت کا نشہ کافور ہو جاتا ہے ایسا ہی ایک واقعہ سعودی عرب میں پیش آیا جب ایک جوڑے میں اس وقت شدید اختلافات پیدا ہوگئے جب شادی کی تقریب میں لگنے والی سجاوٹوں پر ہی 40 ہزار سعودی ریال کا بل بن گیا۔

اس موقع پر میاں بیوی میں اتنا شدید جھگڑا ہوا کہ خاوند نے اتنا بڑا بل ادا کرنے سے انکار کردیا اور وہ اپنی بیوی کو دُکان میں چھوڑ کر ہی واپس آگیا۔

شادی بیاہ کے پلانر خالد الشرحان نے بتایا کہ ان کی دکان میں ایک جوڑا آیا اور اپنی شادی سجاوٹ کی چیزیں دیکھنے لگا۔ جب خاتون نے اپنی تمام پسندیدہ چیزیں چن لیں اور ان کا بل بنایا گیا تو 40 ہزاد سعودی ریال کی رقم دیکھ دلہا طیش میں آگیا اور اس نے دلہن پر الزام لگایا کہ وہ اس پر ناجائز بوجھ ڈال رہی ہے۔ اس کے بعد دلہا غصے میں ہی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے چلا گیا اور دلہن کو واپسی پر ٹیکسی میں گھر جانا پڑا۔

الشرحان کا کہنا تھا کہ شادی بیاہ پر بڑھنے والے اخراجات ملک میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کی وجہ ہوسکتے ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں ہر سال 30٫000 کے قریب طلاقیں ہوتی ہیں۔

الشرحان کا کہنا تھا کہ ان کے تجربے کے مطابق 70 فی صد نوجوان جوڑوں کو اپنی شادی کے اخراجات کی وجہ سے معاشی مسائل کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا "کئی نوجوان جوڑوں کے پاس پیسوں کی کمی ہوتی ہے اور میں ایسے کئی خاوندوں کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنی بیویوں کی تسلی کی خاطر بینک سے شادی کے اخراجات اٹھانے کے لئے قرضہ لے رکھا ہے۔ کچھ مہینوں کے بعد وہ اپنی روز مرہ زندگی میں اس قرضے کے بوجھ کو محسوس کرنا شروع کردیتے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ "شادی کے اخراجات میں کسی قدر اضافے کے سبب نئے جوڑّوں میں کافی کھینچا تانی ہوتی ہے۔ اسی لئے کئی شادیاں تنائو کا شکار بن کر بالآخر ٹوٹ جاتی ہیں۔"