.

سعودی نوجوان نے لڑکی کی غربت پر رشتہ ٹھکرا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حصول زر کے لالچی انسانوں کے نزدیک انسانی رشتوں کی کوئی قدر ومنزلت نہیں ہوتی۔ یہ سماجی برائی ہرمعاشرے میں نہ صرف موجود ہے بلکہ اس میں شدت آتی جارہی ہے۔ رشتے ناطے طے کرتے وقت بھی لڑکے اور لڑکی دونوں کے صاحب ثروت ہونے کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ دونوں میں سے کوئی ایک غریب ہوتو رشتہ ٹھکرا دیا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی عرب جیسے دینی ماحول اور اسلامی اقدار کے حامل معاشرے کے ایک نوجوان کا واقعہ بیان کیا ہے جس نے محض اس بناء پر لڑکی کا رشتہ ٹھکرا دیا کہ اس کے والدین لڑکی کو جھیز میں بھاری بھرکم سامان دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے حائل کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک نکاح خواں نے بتایا کہ ایک نوجوان نے رسم نکاح کے موقع پرعین اس وقت لڑکی کو اپنے نکاح میں قبول کرنے سے انکارکردیا جب اس کے والدین نے کہا کہ وہ بچی کو جھیز میں بہت زیادہ سامان نہیں دے سکتے ہیں ،نیزیہ کہ لڑکا اس کی بیٹی اور اس کی والدہ [ساس] کو حج کرادے۔ اس کے بدلے میں وہ بیٹی کا مہر معاف کردے گا۔ اس پر لڑنے نے تلخ جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ شادی کے لیے آیا ہے کسی سے مشورے لینے نہیں آیا۔