روس کے جنگی بحری جہاز کی ترک کشتی پر انتباہی فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے ایک جنگی بحری جہاز سمیتلوی نے بحر ایجہ میں ترکی کے ماہی گیروں کی ایک کشتی کی جانب انتباہی فائرنگ کی ہے مگر اس واقعے میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

روس کی وزارت دفاع نے اتوار کی صبح پیش آئے اس واقعے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ جنگی بحری جہاز نے انتباہ کے بعد آمنے سامنے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے یہ فائرنگ کی تھی اور اس واقعے پر ماسکو میں متعیّن ترکی کے فوجی اتاشی کو وضاحت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ترک مچھیروں کی کشتی کو پہلے انتباہ جاری کیا گیا تھا جس کا اس کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا لیکن جنگی بحری جہاز سے فائرنگ کے بعد اس نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا تھا۔اس وقت دونوں کے درمیان پانچ سو میٹر سے بھی کم فاصلہ رہ گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ترکی کے ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے گذشتہ ماہ شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر روس کا ایک لڑاکا طیارہ مار گرایا تھا جس کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سخت کشیدگی پائی جارہی ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتین نے اپنے طیارے کی تباہی کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا تھا اور ردعمل میں ترکی کے خلاف اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔دسمبر کے اوائل میں ترکی نے سمندری حدود میں پیش آئے ایک واقعے کی شکایت کی تھی۔روس کے ایک جنگی بحری جہاز پر سوار ایک سیلرنے آبنائے باسفورس سے گذرے ہوئے استنبول کی جانب اپنی توپ کا رُخ کیا تھا اور اس انداز میں تصویر بھی بنوائی تھی جو سوشل میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آگئی تھی۔ترکی نے اس معمولی مگر انہونے واقعے کے خلاف روس سے سخت احتجاج کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں