براعظم افریقا کا چھوٹا ملک گیمبیا ''اسلامی ریاست'' قرار

عیسائیوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا،خواتین کا کوئی مخصوص لباس نہیں ہوگا: صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

براعظم افریقا کے مغرب میں واقع گیمبیا کے صدر یحییٰ جمعہ نے ملک کو ''اسلامی ریاست'' قرار دے دیا ہے۔انھوں نے واضح کیا ہے کہ عیسائی اقلیت کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور خواتین پر لباس کے ضابطے کی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

صدر یحییٰ جمعہ نے ساحلی شہر بروفوت میں ایک اجتماع سے خطاب کے دوران ملک کو اسلامی ریاست بنانے کا اعلان کیا ہے۔ان کی یہ تقریر سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی ہے۔

بعد میں صدر کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''گیمبیا کی حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔آج سے گیمبیا ایک اسلامی ریاست ہے۔ہم ایک ایسی اسلامی ریاست ہوں گے جس میں شہریوں کے حقوق کا احترام کیا جائے گا''۔

صدر یحییٰ نے اپنی تقریر میں اسلامی ریاست کے خدوخال واضح نہیں کیے ہیں کہ اب ریاستی ڈھانچے میں کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی۔البتہ انھوں نے اقلیتوں ،خاص طور پر عیسائیوں اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انھیں آزادانہ طور پر عبادت کی اجازت ہوگی۔انھیں احترام دیاجائے گا اور کرسمس کی تقریبات حسب معمول جاری رہیں گی۔

انھوں نے کہا کہ کسی کو بھی دوسروں کے طرززندگی میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہوگا۔انھوں نے خواتین کے لیے لباس کا کوئی مخصوص ضابطہ مسلط کرنے پر بھی انتباہ کیا ہے۔انھوں نے کہا:'' میں نے کسی اسلامی پولیس مین کو مقرر نہیں کیا ہے۔خواتین کس طرح کا لباس پہنتی ہیں،اس کا تعیّن کرنا آپ کا کام نہیں ہے''۔

گیمبیا برطانیہ کی سابق کالونی رہا ہے۔یہ سینی گال کے ساتھ واقع ہے۔اس کی آبادی قریباً بیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ان میں نوّے فی صد مسلمان ہیں۔آٹھ فی صد عیسائی ہیں اور باقی دو فی صد خود ساختہ مقامی عقیدے کے حامل ہیں۔

پچاس سالہ یحییٰ ایک فوجی افسر اور سابق ریسلر ہیں۔وہ دیہی پس منظر کے حامل ہیں ۔انھوں نے 1994ء میں ایک فوجی بغاوت کے بعد اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔وہ اس کے بعد سے آہنی ہاتھوں سے ملک کو چلا رہے ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان پر اپنے مخالفین کے خلاف طاقت کے استعمال کے الزامات عاید کرتی رہی ہیں۔گیمبیا کی حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت یونائیٹڈ ڈیموکریٹک پارٹی نے ان کے اسلامی ریاست بنانے کے اعلان کو غیر قانونی اور غیرآئینی قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں