.

شاعرہ کی میلے میں شرکت، سوشل میڈیا میدان جنگ بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جدہ کی ایک نجی تقریب میں ایک خاتون شاعرہ کو شرکت سے روکنے کی کوشش کرنے والے دو سعودی شہریوں کو سوشل میڈیا کے کئی محاذوں پر رسوائی کا سامنا جبکہ کئی جگہ شاباشی مل رہی ہے۔

جدہ بک فئیر کے موقع پر پیش آنے والے اس واقعہ کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر مقبول ہوگئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو افراد شاعرہ کی بک فئیر میں موجودگی پر اعتراض اٹھا رہے ہیں کہ بک فئیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ سعودی روایات کے خلاف ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وڈیو بنانے والے شخص کو بھی مداخلت کار کہہ رہے ہیں کہ انہیں اس وڈیو کے بنانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

تقریب کے منتظمین نے مردوں کے بولنے والی خواتین پر تنقید کرنے والے اس شخص کو بک فئیر سے باہر نکال دیا۔ مداخلت کار جاتے ہوئے بھی حاضرین سے سوال کرتا رہا کہ کیا وہ اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ایک عورت ان سے مخاطب ہو۔ اس کو یہ دیکھ کر حیرانگی ہوئی کہ کئی اشخاص نے ہاں میں جواب دیا۔

اس زبانی حملے کا شکار بننے والی اشجان الہنیدی نے اتنی مداخلت کے باوجود بھی بعد میں اپنا کلام پیش کیا۔ الہنیدی کا کہنا تھا کہ ان کے پاس حق ہے کہ وہ ان دو افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست دے سکتی ہیں مگر وہ اپنا یہ حق استعمال نہیں کریں گی۔

مگر سوشل میڈیا پر ان قدامت پسند افراد کی حمایت اور ان کے "بہادر اقدام" کی حمایت میں ایک ٹرینڈ چلایا گیا تھا۔ ٹرینڈ میں حصہ لینے والوں نے شاعرہ کو ٹوکنے والے افراد کی تعریف کی۔

مگر ٹویٹر پر ہی ایک اور ٹرینڈ چل رہا تھا جس میں قدامت پسندوں کو جواب دیتے ہوئے "ہاں ہم قبول کرتے ہیں" کے عنوان سے ٹرینڈ چلایا جارہا تھا۔

اس ٹرینڈ میں حصہ لینے والے ٹویٹر صارفین کا کہنا تھا کہ خواتین کو عام تقریبات میں بولنے کی اجازت ہے اور قدامت پسندوں کو ان کی تقریب میں مداخلت نہیں کرنی چاہئیے تھی، خصوصا اس لئے کہ ان کے پاس ایسا کرنے کا کوئی حکومتی اختیار نہیں ہے۔