پیرس: سرکاری استاد پر داعش کے مبینہ شخص کا حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواح میں کٹر اور قینچی سے مسلح شخص نے ایک استاد کو زخمی کر دیا ہے۔اس حملہ آور نے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ساتھ اپنا تعلق بتایا ہے۔

یہ حملہ داعش کے جنگجوؤں کے پیرس ہی میں چھے مقامات پر بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات کے ایک ماہ کے بعد کیا گیا ہے۔ان حملوں میں ایک سو تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔داعش نے تب اپنے پیروکاروں پر زوردیا تھا کہ وہ فرانس کے تعلیمی نظام سے وابستہ اساتذہ پر سیکولرازم کی تعلیم دینے کے الزام میں حملے کریں۔

پولیس ذرائع کے مطابق مسلح شخص نے پیرس کے شمال مشرق میں واقع ایوبرولیرس میں پینتالیس سالہ استاد کو گردن اور کمر کے ایک جانب تیز دھار آلہ گھونپا ہے۔اس وقت استاد جماعت میں جانے کی تیاری کررہا تھا لیکن اس کے زخم جان لیوا نہیں ہیں۔

حملہ آور نے مکمل لباس زیب تن کر رکھا تھا اور وہ کسی ہتھیار کے بغیر آیا تھا لیکن اس نے کلاس روم میں پڑے ایک باکس کٹر اور قینچی کو پکڑ لیا۔مقامی پراسیکیوٹر کے مطابق اس شخص نے بلند آواز میں کہا کہ ''یہ داعش ہے اور یہ ایک انتباہ ہے''۔

حملہ آور ٹیچر کو تیز دھار آلہ گھونپنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے اور انسداد دہشت گردی کے تحقیقات کار واقعے کی تفتیش کررہے ہیں۔فوری طور پر حملہ آور کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔

واضح رہے کہ داعش نے اپنے فرانسیسی زبان کے میگزین ''دارالاسلام'' کے نومبر کے شمارے میں اپنے پیروکاروں سے کہا تھا کہ فرانسیسی تعلیمی نظام میں کام کرنے والے اساتذہ کو قتل کردیں۔میگزین میں ان اساتذہ کو دشمنِ خدا قرار دیا گیا تھا اور مزید لکھا تھا کہ''مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ فرانسیسی تعلیمی نظام دین کے خلاف ہے اور سچا دین سلام اس جنونی سیکولرازم کے ساتھ نہیں رہ سکتا ہے''۔

اس دھمکی کے بعد فرانس کی وزیر تعلیم نجات ولود بلکاجیم کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کا خطرہ حقیقی اور مستقل ہے۔ عوامی مقامات اور خاص طور پر اسکولوں کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔ہم اسکولوں کے تحفظ کے لیے سکیورٹی اقدامات جاری رکھیں گے۔واضح رہے کہ فرانس میں 13 نومبر کو دہشت گردی کے حملوں کے بعد سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں