.

امریکا کا ترکی سے داعش کے خلاف ''ڈو مور'' کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیردفاع آشٹن کارٹر نے ترکی پر زوردیا ہے کہ وہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے استیصال کے لیے جنگ میں مزید تعاون کرے۔

انھوں نے یہ مطالبہ مشرق وسطیٰ کے دورے کے آغاز کے موقع پر کیا ہے۔انھوں نے ترکی کے جنوب میں واقع انچرلیک ائیربیس کے لیے سفر کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ کو شام کے ساتھ واقع سرحد پر اپنا کنٹرول بہتر بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ داعش قریباً ایک سو کلومیٹر پر محیط دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی علاقے سے ہی غیر قانونی تجارت کررہے ہیں اور ان کے جنگجوؤں کی بھی اس سرحدی علاقے سے ادھر سے ادھر آمد ورفت ہوتی رہتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ترکی کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔وہ جو کچھ کررہے ہیں،ہم اس کو سراہتے ہیں۔ہم ان سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ مزید اقدامات کریں''۔امریکی وزیردفاع نے ترکی سے اس ''ڈو مور'' مطالبے کی یہ وضاحت کی ہے کہ ترک فورسز فضائی مہم میں شامل ہوں اور مناسب زمینی کارروائیاں کریں۔ان کا سب سے اہم کردار، جو ان کے جغرافیے کی وجہ سے ناگزیر ہے ،یہ ہے کہ وہ اپنی سرحدوں پر کنٹرول کریں۔

واضح رہے کہ ترکی کے انچرلیک میں واقع فوجی ہوائی اڈے کو عراق اور شام میں داعش کے خلاف فضائی مہم میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اور امریکا ،ترکی ،قطر اور جرمن کے انسٹھ لڑاکا طیارے یہیں سے اڑ کر مذکورہ دونوں ممالک میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہیں،یہیں پر ان میں ایندھن کی بھرائی ہوتی ہے اور وہ سراغرسانی کے مشن کے لیے اڑان بھرتے ہیں۔

داعش مخالف فضائی مہم میں شریک ان انسٹھ طیاروں میں پینتالیس امریکا کے ہیں۔ان میں پائیلٹ اور بغیر پائیلٹ دونوں طرح کے طیارے شامل ہیں۔امریکا ترکی سے داعش کے خلاف جنگ میں اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے علاوہ اس جنگجو گروپ پر زیادہ تعداد میں فضائی حملے کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے پینٹاگان میں سوموار کو قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد کہا تھا کہ ایش کارٹر کے دورے کا مقصد داعش کے خلاف مہم میں شامل اتحادی ممالک سے زیادہ فوجی مدد کا حصول ہے۔

درایں اثناء امریکی مسلح افواج کے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا ہے کہ امریکا داعش کے پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے مزید اقدامات کرے۔ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی داعش کے پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے کوششیں کہیں کم تر ہے اور انتہاپسند اپنے پیغامات کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے میں کامیاب ہورہے ہیں۔

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ مغرب میں لوگ داعش کے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کی طاقت سے صرف نظر کررہے ہیں اور ان سے نوجوان متاثر ہورہے ہیں حالانکہ ہم ان نظریات کی غیر معقولیت کو دیکھ سکتے ہیں اور فوری طور پر ان کا رد کرسکتے ہیں۔