.

بحر اسود میں ترکی اور روس کے درمیان نئی کشیدگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرایجہ میں اتوار کے روز ترکی کی ایک کشتی پر روسی فوج کی فائرنگ کے واقعے کے بعد بحراسود میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک نئی کشیدگی سامنے آئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بحراسود میں روسی کوسٹ گارڈ کی ایک کشتی نے ترک مال بردار کشتی پر فائرنگ کی اور اسے راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔

القرم کے علاقے میں توانائی کے شعبے میں سرگرم ’’چیرنومور نیفٹیگیز‘‘ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ بحر اسود میں ترکی کی پرچم پردار ایک مال بردار کشتی پر روسی کوسٹ گارڈ کے عملے نے فائرنگ کی جس کے بعد کشتی کو اپنا روٹ تبدیل کرنا پڑا ہے۔ تاہم بعد ازاں ترک کشتی محفوظ راستے سے اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئی تھی۔

قبل ازیں اتوار کو بحر ایجہ میں روسی جنگی بحری بیڑے کے قریب سے گذرنے والی ایک ترک کشتی پر فائرنگ کی گئی تھی۔ ترک کشتی کے روسی بیڑے کے قریب آنے پر ماسکو نے اپنے ہاں متعین ترکی کے ملٹری اتاشی کو طلب کر کے سخت احتجاج بھی کیا تھا۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق ماسکو کے یونان کے جزیرہ لیمنوس سے 22 کلو میٹر دور ’’سمٹیلیوی‘‘ نامی جہاز اور تُرک ماہی گیروں کی ایک کشتی کے درمیان تصادم ہوا تھا۔ وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ روسی جہاز سے ترک کشتی پر انتباہی فائرنگ کی گئی تھی۔

خایل رہے کہ ترکی اور روس کے درمیان 24 نومبر کو اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی تھی جب ترک فوج نے اپنی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں روس کا ایک جنگی طیارہ مار گرایا تھا۔ اس واقعے کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال کرنا شروع کر دی تھی۔ روس نے انتقامی کارروائی کے طور پر ترکی پر اقتصادی پابندیاں عاید کر دی ہیں جس کے نتیجے میں دونوں دو طرفہ زراعت، سیاحت،تجارت ، توانائی اور تعمیرات کے شعبے متاثر ہوئے ہیں۔