امریکی تنظیم بائیکاٹ نہ کرے: اسرائیلی جامعات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی آٹھ تحقیقاتی جامعات کے صدر نے ایک امریکی تنظیم پر زوردیا ہے کہ وہ اسرائیل کے تدریسی بائیکاٹ کو عملی جامہ نہ پہنائے۔

ان صدر صاحب نے امریکن انتھروپالوجی ایسوسی ایشن کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ ''اس تنظیم کی جانب سے اسرائیل کے بائیکاٹ سے متعلق قرارداد بالکل غیرمنطقی ہے اور اس کا مقصد اسرائیلی اکیڈیمیا میں منافرت اور نسل پرستی کو متعارف کرانا ہے''۔

امریکی تنظیم نے گذشتہ ماہ اپنے سالانہ اجلاس میں اس قرارداد کی حمایت کی تھی اور اس پر بہت جلد اس کے بارہ ہزار سے زیادہ ارکان اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔اگر یہ قرارداد منظور کر لی جاتی ہے تو یہ ایسوسی ایشن اسرائیل کا تدریسی بائیکاٹ کرنے والی سب سے بڑی امریکی تنظیم ہوگی۔

اس اقدام کواسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف ظالمانہ اقدامات پر احتجاج کے طور پر چلائی جانے والی تحریک برائے بائیکاٹ اور پابندیاں (بی ڈی ایس) کی حمایت حاصل ہے۔اسرائیل نے اس تحریک پر اپنے بارے میں جھوٹ اور شر پھیلانے کا الزام عاید کیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اپنے خلاف کسی بھی تحریک یا گروپ کے احتجاج کے ردعمل میں اسی طرح کے منفی الفاظ استعمال کرتا رہتا ہے اور جو دانشور اس کی فلسطینیوں کے خلاف چیرہ دستیوں کی مذمت کرتا ہے،اس کو ''یہود مخالف'' قرار دے دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف یہود کے زیراثر میڈیا اداروں اور خبررساں ایجنسیوں کے ذریعے بھرپور پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں