اقوام متحدہ کی نئی سیکریٹری جنرل خاتون ہوں گی؟

نئے سیکریٹری کی تلاش میں رکن ممالک سے امیدوار طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ نے باضابطہ طور پر اگلے سیکریٹری جنرل کی تلاش کا کام شروع کردیا ہے اور 193 ممبران کی اس عالمی تنظیم پر دبائو ہے کہ وہ اس بار یہ عہدہ کسی خاتون کے ہاتھ میں دے۔

اقوام متحدہ کے موجودہ سیکریٹری جنرل اور جنوبی کوریا کے سابق وزیر خارجہ بین کی مون اپنی پانچ سال کی دو مدتیں پوری کرنے کے بعد 2016ء کے آخر تک یہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔ یہ عہدہ روایتی طور پر مختلف خطوں کے درمیان گھومتا رہتا ہے اور اسی روایت کے مطابق اب مشرقی یورپ کی باری ہے۔

عام طور پر 15 رکنی سیکیورٹی کونسل جس میں ویٹو کی طاقت رکھنے والے ممالک چین، روس، امریکا، برطانیہ اور فرانس بھی شامل ہیں، بند دروازوں کے پیچھے ایک خفیہ لسٹ پر غور کرتے ہیں اور پھر ان میں ایک امیدوار کو نامزد کرتے ہیں جس پر جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کی جاتی ہے۔

شفافیت کو یقینی بنانے کی کوشش میں سیکیورٹی کونسل کی صدر اور امریکی سفیر سمانتھا پاور اور جنرل اسمبلی کی صدر اور ڈنمارک کی سفیر موگنس لیکٹوفٹ نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو ایک خط بھیجا تھا جس میں انتخاب کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے انہیں بین کی مون کے متبادل کی تلاش کا کہا گیا ہے۔

خط میں لکھا گیا تھا کہ "ہم خواتین اور مردوں کے لئے فیصلہ سازی کے اعلیٰ عہدوں پر تقرری کے یکساں مواقع پیدا کرنے کے لئے ممبر ممالک پر یہ زور دیتے ہیں کہ وہ خواتین کو بھی اس عہدے کے لئے امیدوار سمجھیں۔"

اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سفیر میتھیو رائے کرافٹ کا کہنا تھا کہ اب اگلے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کی دوڑ کا آغاز ہوگیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس خط کے اجراء سے صنفی مساوات اور انتخابی عمل میں شفافیت آئے گی۔

اقوام متحدہ کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ امیدواروں کی ایک لسٹ مارچ تک مکمل ہوجائے گی۔ خط میں کہا گیا تھا کہ امیدواروں کو رکن ممالک سے ملنے کی اجازت ہوگی اور سلیکشن کا عمل جولائی میں شروع کیا جائے گا۔

جنرل اسمبلی کی صدر لیکٹو کرافٹ کا کہنا ہے کہ ابھی تک دو امیدواران کے نام سیلیکشن کے لئے منتخب کئے ہیں جن میں میسیڈونیا سے تعلق رکھنے والے جنرل اسمبلی کے سابق صدر سرگ جان کریم اور کروشیا کی وزیر خارجہ ویسنا پیوسک شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں