اٹلی موصل ڈیم کے تحفظ کے لیے 450 فوجی بھیجے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اطالوی وزیراعظم میٹو رینزی نے عراق کے داعش کے زیرقبضہ شمالی شہر موصل کے دفاع کے لیے ساڑھے چار سو فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

یادرہے کہ جرمنی اور اٹلی کے کنسورشیم نے 1980ء کی دہائی میں دریائے دجلہ پر یہ ڈیم تعمیر کیا تھا۔یہ موصل شہر اور اس نواح کے لیے پانی اور بجلی مہیا کرنے کا اہم ذریعہ ہے اور اطالوی کمپنی ٹریوی کے اب بھی اس سے مفادات وابستہ ہیں۔

اطالوی وزیراعظم نے قومی ٹیلی ویژن سے ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ''اطالوی کمپنی نے ڈیم کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے اور ہم ساڑھے چار سو فوجی بھیجیں گے اور وہ امریکیوں کے ساتھ مل کر اس کا تحفظ کریں گے''۔ واضح رہے کہ عراق میں پہلے ہی اٹلی کے ساڑھے سات سو فوجی موجود ہیں۔

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ''یہ ڈیم داعش کے زیر قبضہ علاقے کی سرحد پر واقع ہے۔اس کو سنگین نقصان پہنچ چکا ہے اور اس کے تباہ ہونے کا خطرہ ہے''۔اگر یہ ڈیم ٹوٹ جاتا ہے تو اس سے سیلاب آجائے گا اور اس سے موصل سے لے کر دارالحکومت بغداد تک علاقے متاثر ہوسکتے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے جون 2014ء سے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کررکھا ہے۔انھوں نے موصل ڈیم پر بھی قبضہ کر لیا تھا لیکن امریکا کے فضائی حملوں کی مدد سے اگست 2014ء میں کرد فورسز البیشمرکہ نے اس ڈیم پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں