سعودی عرب مصر کو پانچ برس تک تیل دے گا: شاہ سلمان

قاہرہ میں سعودی سرمایہ کاری کا حجم 30 ریال تک بڑھانے کا شاہی فرمان بھی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پانچ سال کے لیے مصر کی تیل کی ضروریات پوری کرنے کی ہدایت کی ہے اور ساتھ ہی مصر میں سرمایہ کاری کا حجم بڑھا کر 30 ارب ریال کرنے کا حکم دیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاض حکومت نے قاہرہ کے ساتھ تمام شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے اور ہم آہنگی کے فروغ کی ہدایت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ سلمان اور مصری صدر فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے درمیان 11 نومبر کو طے پائے سمجھوتے کو عملی شکل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ پچھلے ماہ شاہ سلمان اور مصری صدر فتاح السیسی کے درمیان ریاض میں اہم ملاقات ہوئی تھی۔دونوں رہ نماؤں نے دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کے مختلف معاہدوں کی منظوری دی تھی۔ ملاقات میں سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، مصری وزیراعظم شریف اسماعیل محمد اور دیگر رہ نما موجود تھے۔

شاہ سلمان نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اگلے پانچ سال کے لیے مصر کی تیل کی ضروریات پوری کرنے میں معاونت کرنے کے ساتھ ساتھ مصر میں سعودی سرمایہ کاری کا حجم بڑھا کر تیس ارب ریال کرنے کا حکم دیا ہے۔

خیال رہے کہ مصری صدر اور سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے درمیان ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ دونوں رہ نمائوں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد تیسری ملاقات ریاض میں کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی، وزیراعظم انجینیر شریف اسماعیل محمد اور ان کی کابینہ نے سعودی عرب کی طرف سے اقتصادی شعبے میں تعاون اور قاہرہ کے مفادات کے تحفظ پر ریاض کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں