یمنی بحران کے حل کے لیے جنیوا میں مذاکرات شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ٰ#یمن میں جاری لڑائی کے خاتمے اور فریقین کو جنگ بندی پرآمادہ کرنے کے لیے #سوئٹزر_لینڈ کے صدر مقام #جنیوا میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ #اقوام_متحدہ کی زیرنگرانی ہونے والے مذاکرات میں یمن کی آئینی حکومت اور باغیوں کے نمائندہ شریک ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان احمد فوزی نے جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اس بات کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ یمن کے بحران سے متعلق مذاکرات کی شروعات خوش گوار ماحول میں ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی خواہش ہے کہ فریقین اس اجلاس میں یمن میں مستقل جنگ بندی کا فیصلہ کریں۔"

قبل ازیں اقوام متحدہ کے امن مندوب برائے یمن اسماعیل ولد الشیخ احمد نے یمن میں متحارب فریقین کے درمیان جاری لڑائی عارضی طور پر بند کیے جانے کی تصدیق کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جنگ بندی کے پہلے مگر حساس مرحلے سے گذر رہے ہیں۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔

یو این مندوب نے یمن کے متحارب فریقین پرزور دیا کہ وہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے دوران سیز فائر کی خلاف ورزیوں سے گریز کریں تاکہ امن کے لیے جاری سیاسی اور سفارتی مساعی میں بد اعتمادی کی فضاء پیدا نہ کی جاسکے۔

ولد الشیخ کا کہنا تھا کہ یمن میں اب ہر صورت میں تشدد کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اب مزید جنگ جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ جنگ کے نتیجے میں ملک میں ہونے والی تباہی کے بعد اب تعمیر نو کا مرحلہ شروع کرنے میں تمام یمنی قوتوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہیے۔ تاکہ ملک کی معیشت کا پہیہ چلانے کی راہ ہموار کی جاسکے۔

خیال رہے کہ یمن میں حکومت نواز فورسز اور حوثی باغیوں نے سوموار اور منگل کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق رات 12 بجے سے جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کی جگہ کی نشاندہی نہیں کی گئی تاہم سوئٹزر لینڈ کے ایک ریڈیو کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یمن کے بحران کے حل کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی مذاکرات کانٹن برن نامی ایک ہوٹل میں ہو رہے ہیں۔ان مذاکرات میں صدر عبد ربہ #منصور_ھادی، #حوثی باغیوں اور سابق منحرف صدر علی #عبداللہ_صالح کے حامی حصہ لے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں