یمن کے متحارب فریقوں میں قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق

سوئٹزر لینڈ میں مذاکرات میں طرفین کا ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوئٹزر لینڈ میں یمن امن مذاکرات کے دوسرے روز متحارب فریقوں نے قیدیوں کے تبادلے سے اتفاق کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ثالثی میں ان مذاکرات میں شریک صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے۔

البتہ طرفین کے مذاکرات کاروں نے قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق رائے کو ایک مثبت علامت قرار دیا ہے۔حوثی ملیشیا کے ایک سینیر لیڈرعبدالحکیم الحسنی نے کہا ہے کہ اس وقت ان کی تحریک کے 360 ارکان عدن میں زیر حراست ہیں اور ان کا جنوبی یمن سے تعلق رکھنے والے 265 شہریوں اور جنگجوؤں سے تبادلہ کیا جائے گا۔

ادھر یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں کے زیر انتظام جیل اتھارٹی کے ایک افسر نے کہا ہے کہ جنوبی یمن سے تعلق رکھنے والے ان قیدیوں کو بسوں پر وسطی یمن میں اس مقام کی جانب روانہ کردیا گیا ہے جہاں قیدیوں کا تبادلہ کیا جانے والا تھا۔عدن میں قید حوثی باغیوں کو بھی رہا کر کے بسوں کے ذریعے قیدیوں کے تبادلے کے مقام کی جانب روانہ کیا گیا ہے۔

قیدیوں کے اس تبادلے کے باوجود طرفین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے۔یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان منگل کی دوپہر کو جنگ بندی ہوئی تھی۔اس کے تحت سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے بھی حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملے روک دیے ہیں۔فریقین کے درمیان یہ جنگ بندی سات روز کے لیے ہوگی اور حوثیوں کی جانب سے اس کی پاسداری کی صورت میں اس کی خود کار طریقے سے ہی تجدید ہوجائے گی۔

حوثیوں کے زیر انتظام یمن کی سبا نیوز ایجنسی نے سابق صدرعلی عبداللہ صالح کی وفادارفورسز کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل شرف لقمان کا ایک بیان نقل کیا ہےجس میں انھوں نے کہا ہے کہ سعودی اتحاد کی جانب سے مختلف علاقوں میں زمینی ،سمندری اور فضائی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

جنرل لقمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ''بحراحمر کے کنارے آباد ساحلی شہر اور بندرگاہ حدیدہ پر سمندر سے حملہ کیا گیا ہے جبکہ زمینی فورسز نے تعز شہر پر حملے کیے ہیں اور عرب اتحاد کے فضائی حملے رکے نہیں ہیں''۔انھوں نے کہا کہ ''ہم اپنے ہاتھ بندھے نہیں رکھیں گے بلکہ اتحاد کی جانب سے جہاں جہاں خلاف ورزیاں رونما ہورہی ہیں،ہم ان کا سختی سے جواب دیں گے''۔

دوسری جانب صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے زیرانتظام خبررساں ایجنسی سبا نیوز ڈاٹ نیٹ نے حوثی باغیوں کی جانب سے جنگ بندی کو توڑنے کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ وسطی شہر تعز میں فائر بندی کے آغاز کے فوری بعد حوثی باغیوں نے گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں پانچ یمنی فوجی اور تین شہری ہلاک اور سترہ زخمی ہو گئے ہیں۔اس نیوز ایجنسی نے ایک طبی ذریعے کے حوالے سے ان ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاع دی ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل احمد العسیری نے واضح کیا ہے کہ ''اتحاد جنگ بندی پر کاربند ہے لیکن وہ حوثی باغیوں کی جانب سے کسی بھی خلاف ورزی پر جواب دینے کو تیار ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں