اقوام متحدہ شام میں غیرملکی حملوں کی تحقیقات سے دستبردار

امریکی، فرانسیسی ، برطانوی یا روسی فضائی حملوں کی تحقیقات نہیں کریں گے: پنہیرو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والی کمیشن کے چئیرمین نے کہا ہے کہ شام میں غیرملکی فضائی حملوں کی تحقیقات نہیں کی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کے چئیرمین پاؤلو پنہیرو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا کمیشن شام میں غیر ملکی اقوام کے حملوں کی تحقیقات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے کیونکہ شامی بحران میں ملوّث طاقتوں کے کردار کی تحقیقات کرنا ہمارا مینڈیٹ نہیں ہے۔

انھوں نے ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ فضائی حملے کرنے والی اقوام کے عالمی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی میں مرتکب ہونے کے ممکنہ کیسوں کی تحقیقات نہیں کی جائے گی۔اس لیے اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ہم امریکی یا فرانسیسی یا برطانوی یا روسی فضائی حملوں کی تحقیقات کریں گے۔

واضح رہے کہ انسانی حقوق کے بعض گروپ یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ممالک کے فضائی حملوں کے دوران شام میں عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں اور بعض شہری علاقوں کو بھی لڑاکا طیاروں نے اپنی بمباری میں نشانہ بنایا ہے۔

بعض مبصرین نے شام میں شہریوں اور شہری ڈھانچے پر حملوں کے لیے طاقت کے غیر متناسب استعمال کی اطلاع دی ہے۔مسٹر پنہیرو اور ان کے تین ساتھی کمشنر شام میں فضائی قوت کا استعمال کرنے والی بڑی طاقتوں امریکا ،روس ،برطانیہ اور فرانس کو محض انتباہ کرنے پر ہی اکتفا کرتے رہے ہیں۔

جنیوا کنونشنز کے تحت جنگوں کے متحارب فریق فوجی اور شہری اہداف میں تمیز کرنے کے پابند ہیں۔ان کنونشنز میں اسکولوں ،اسپتالوں کو نشانہ نہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے اور فوجی طاقت کا استعمال بھی درپیش خطرے کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔

امریکی حکام نے نومبر میں کہا تھا کہ انھیں انسانی حقوق کے کارکنان کے ان الزامات سے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ روس نے شام میں مساجد ،اسپتالوں اور دوسرے شہری ڈھانچے پر بھی لڑاکا طیاروں سے بم برسائے ہیں اور سیکڑوں عام لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں