سعودی عرب :عمرہ فرموں کو ناقص انتظامات پر انتباہ

زائرین کے لیے مکہ اور مدینہ میں نامناسب رہائش پر جرمانے ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی وزارت حج نے عمرہ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں زائرین کو نامناسب جگہوں پر نہ ٹھہرائیں ورنہ انھیں سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزارت حج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اگر کسی کمپنی کے زائرین دونوں مقدس شہروں میں رہائش کے بغیر پائے گئے تو وزارت ان کے لیے دستیاب ہوٹلوں میں خود انتظام کرے گی اور اس کی لاگت کمپنی کی بنک ضمانت سے منہا کر لی جائے گی''۔

وزارت نے کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کریں اور زائرین عمرہ کی آمد سے قبل ہی ان کے رہنے اور ٹرانسپورٹ کے لیے بہتر انتظامات کیے جائیں گے۔

روزنامہ مکہ میں شائع شدہ بیان کے مطابق عمرہ کمپنیوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ زائرین کے ڈیٹا کو مکہ اور مدینہ منورہ میں ای ٹریک کے ذریعے ان کی رہائش سے منسلک کردیں۔اگر کوئی ڈیٹا نادرست ہوا تو ذمے دار کمپنیوں سے پوچھ تاچھ ہوگی اور انھیں سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ وزارت نے یہ بھی کہا ہے کہ عازمین عمرے کے لیے جن ہوٹلوں اور دوسری عمارتوں کاانتظام کیا جارہا ہے ،انھیں سعودی کمیشن برائے سیاحت اور قومی ورثہ کے ہاں کلاسیفائیڈ ہونا چاہیے اور محکمہ شہری دفاع کی جانب سے انھیں تحفظ کا لائسنس جاری ہو چکا ہو۔

ان دونوں شرائط کی خلاف ورزی کی مرتکب عمرہ کمپنی کو سزا دی جائے گی اور اس کا اجازت نامہ بھی منسوخ کیا جاسکتا ہے۔تمام کمپنیوں کو یہ بھی ہدایت کی جاچکی ہے ہے کہ وہ وزارت حج کو روزانہ کی بنیاد پر مکہ اور مدینہ میں موجود زائرین عمرہ کی حقیقی تعداد سے آگاہ کرتی رہیں۔

عمرہ کمپنیاں اس بات کی بھی پابندی ہیں کہ ان کے ٹرانسپورٹ کے ذرائع ٹرانسپورٹ کی وزارت سے منظور شدہ ہونے چاہییں۔وہ مناسب تعداد میں ڈرائیوروں کا بندوبست کریں اور زائرین کے تحفظ کے پیش نظر ڈرائیوروں سے مقررہ اوقات سے زیادہ کام نہ لیا جائے۔

تاہم وزارت کا کہنا ہے کہ زائرین کی رہائش گاہوں اور ٹرانسپورٹ کے ذرائع کو ان کی رضا مندی سے ای ٹریک کے ذریعے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ کمپنیوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ زائرین کی حجاز مقدس آمد اور وہاں سے واپسی کی تاریخ سے بھی آگاہ کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں