.

متحارب دھڑے لیبیا میں قومی حکومت بنانے پر متفق

اقوام متحدہ کی نگرانی میں مراکش کے شہر صخیرات میں دستخط ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے متحارب دھڑے قومی حکومت کی تشکیل پر متفق ہو گئے ہیں۔ جمعرات کے روز اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی طے پانے والے معاہدے پر مراکش میں دستخط کئے گئے، جس کے بعد مغربی طاقتوں کو اندرونی خلفشار کے شکار لیبیا میں استحکام اور انتہا پسند تنظیم 'داعش' کے خلاف جنگ میں کامیابی کی پیدا ہوئی ہے۔

مصلوب مطلق العنان صدر معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے لیبیا میں حکومت اور سرکاری ادارے مسلسل تقسیم کا شکار ہیں اور ملک میں دو متوازن حکومتیں کام کر رہی ہیں۔ اسلام پسند ملیشیائوں پر مشتمل ایک حکومت طرابلس جبکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ حکومت لیبیا کے مشرقی حصے سے کام کر رہی ہے۔

فریقین کی جانب سے اقتدار پر مکمل قبضے کی مسلسل کشمکش کے بعد اقوام متحدہ نے تجویز دی تھی کہ ایک متحدہ حکومت اور سیز فائر کو عمل میں لایا جائے تاکہ بین الاقوامی امداد اور لیبیا کی ترقی کا راستہ کھل سکے۔

اقوام متحدہ کی اس تجویز کو دونوں جانب کے سخت گیر حصوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔ کچھ افراد کو اس معاہدے کی شفافیت پر شک ہے اور وہ لیبیا میں مقامی طور پر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں جبکہ کئی دیگر افراد کو حکومت کے قیام میں مدد دینے والی صدارتی کونسل کے لئے مجوزہ ناموں پر اعتراض ہے۔

ناقدین نے اس حوالے سے بھی سوال اٹھایا ہے کہ اس معاہدے کے اطلاق پر میدان جنگ میں بیٹھے ہوئے مسلح گروہ کس قسم کا ردعمل دیں گے اور نئی حکومت کس طرح طرابلس میں نظام حکومت سنبھالے گی؟

اقوام متحدہ کے سفیر مارٹن کوبلر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ اس معاہدے کی فطرت میں ہے کہ کوئی فریق بھی پوری طرح خوش نہیں ہو سکتا۔ ایسی صورتحال میں مشکلات آتی رہتی ہیں۔ اس معاہدے سے صرف 75 فی صد افراد ہی خوش ہیں مگر میرے خیال میں ایک اچھا آغاز ہے۔"

دونوں پارلیمانوں سے تعلق رکھنے والے ارکان، مقامی کونسلز اور سیاسی جماعتوں کے نمائندے اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے مراکش کے ساحلی شہر صخیرات میں جمع ہوئے تھے۔

مغربی ممالک کے عہدیداران کا ماننا ہے کہ جنگ سے تھکاوٹ، بین الاقوامی امداد کے وعدوں، لیبیا کی معیشت پر دبائو اور دولت اسلامیہ کے مشترکہ خطرے کی وجہ سے ایک قومی حکومت کے قیام کا دبائو بڑھنے کی وجہ سے تمام فریقوں کی توجہ اس حل کی طرف مبذول ہوئی ہے۔

بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے رکن اور رکن پارلیمان صلاح ہما کا کہنا تھا کہ "ہم نے معاہدہ تو بنا لیا ہے، اب سب سے بڑی مشکل اس کا نفاذ ہے۔"

دونوں فریقین کی پارلیمانوں کے سربراہان نے اقوام متحدہ کے معاہدے کو مسترد کر دیا ہے اور مقامی طور پر مسئلے کے حل کے لئے مزید وقت مانگا ہے مگر سفارتکاروں کا کہنا ہے ان دونوں افراد کو اقوام متحدہ کے معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بننے کی پاداش میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

معمر قذافی کے خلاف عوامی انقلاب کے بعد سے لیبیا میں اقتدار پر قبضے کے لئے شدید جنگ جاری ہے۔ سابق باغیوں اور ان کی حامی سیاسی جماعتوں نے اقتدار کے خالی ایوانوں پر قبضہ کرنے کے لئے طرابلس پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں طرابلس مسلح گروپوں کے درمیان مسلسل میدان جنگ بنا رہا۔

مسلسل حملوں اور احتجاج کی وجہ سے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی حکومتی آمدن 2011ء سے پہلے کی سطح سے آدھی سطح تک آ گئی ہے۔

اس تمام بحران کے دوران داعش کے شدت پسندوں نے لیبیا میں اپنی موجودگی بڑھائی اور سرت شہر پر قبضہ کرلیا۔ اس کے علاوہ دارالحکومت طرابلس میں ایک ہوٹل اور جیل پر بھی حملہ کیا گیا اور سرت کے جنوب میں واقع تیل کے کنوئوں کو لوٹ لیا گیا۔