.

تباہ شدہ روسی لڑاکا طیارے کا بلیک باکس کھل گیا

روسیوں کے علاوہ چینی اور برطانوی ماہرین بلیک باکس کے ڈیٹا کا جائزہ لیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی ماہرین نے شام اور ترکی کی سرحد پر مار گرائے گئے اپنے لڑاکا طیارے کا بلیک باکس کھول دیا ہے۔اس موقع پر برطانیہ ،چین اور بھارت کے ماہرین اور فوجی اتاشی بھی موجود تھے۔

روسی فضائیہ کے ڈپٹی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرگئی ڈرونوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو نے چودہ ممالک کو ایس یو 24 لڑاکا طیارے کے بلیک باکس کے جائزے کے لیے اپنے ماہرین بھیجنے کی دعوت دی تھی لیکن صرف برطانوی اور چینی ماہرین نے بلیک باکس کے ڈیٹا کا جائزہ لینےسے اتفاق کیا ہے۔

روسی ٹیلی ویژن نے جمعہ کے روز بلیک باکس کو کھولنے کے عمل کی ایک گھنٹے کی طویل براہ راست نشریات دکھائی ہیں۔ان میں لیبارٹری میں روسی انجینیر ڈیٹا ریکارڈر کی مختلف پرتیں کھول رہے ہیں۔اس موقع پر برطانوی اور چینی ماہرین نظر آرہے ہیں جبکہ برطانیہ ،چین اور بھارت کے فوجی اتاشی ایک براہ راست لنک کے ذریعے صحافیوں کے ساتھ اس تمام عمل کو ملا حظہ کررہے ہیں۔ڈرونوف کا کہنا ہے کہ ریکارڈر کا ڈیٹا سوموار کو جاری کیا جائے گا۔

روس کا بالاصرار کہنا ہے کہ بلیک باکس کے ڈیٹا سے اس کے اس مؤقف کی تصدیق ہوجائے گی کہ اس بمبار طیارے نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ ترکی نے 24 نومبر کو روس کے اس لڑاکا ایس یو 24 کو اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر مار گرایا تھا۔یہ طیارہ 17 سیکنڈز تک ترکی کی فضائی حدود میں رہا تھا لیکن روس کا یہ اصرار رہا ہے کہ اس کا لڑاکا طیارہ ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہی نہیں ہوا تھا۔

ترکی کے ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے اس پر اپنی فضائی حدود میں میزائل داغے تھے جس کے بعد اس کا ملبہ شام کے سرحدی علاقے میں گرا تھا اور روسی اور شامی فورسز نے اس کے مبلے کو باغیوں کے زیر قبضہ شمالی علاقے سے برآمد کر لیا تھا۔

اس واقعے میں روس کا ایک پائیلٹ اور ایک میرین ہلاک ہوگیا تھا۔اس واقعے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات سخت کشیدہ ہوچکے ہیں اور روس نے اس کے ردعمل میں ترکی پر اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔

روسی صدر ولادی میر پوتین نے جمعرات کو اس لڑاکا طیارے کو مار گرانے پر ترکی کے خلاف ایک اور تند وتیز بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ ''اب ترکی کے ساتھ کشیدگی پر قابو پانا عملی طور پر ناممکن ہے''۔