یمن امن مذاکرات: تعز میں امدادی سامان پہنچانے پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے متحارب فریق سوئٹزر لینڈ میں جاری امن مذاکرات کے دوران جنگ زدہ وسطی شہر تعز میں انسانی امدادی سامان پہنچانے پر متفق ہوگئے ہیں اور ان کے درمیان اس ضمن میں ایک سمجھوتا طے پاگیا ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے اس سمجھوتے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ''اس سے یمنی عوام کے مصائب ومشکلات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جاسکیں گے''۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سیکریٹری جنرل کے ایلچی نے مزید کہا ہے کہ ''ضروری امدادی سامان سے لدے ہوئے ٹرکوں کا ایک بڑا قافلہ تعز شہر میں جنگ سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں پہنچ گیا ہے اور آیندہ چند روز میں متاثرین میں امدادی سامان کی تقسیم کا کام شروع کردیا جائے گا''۔

''یہ بھی توقع ہے کہ حجہ ،صعدہ اور جنگ زدہ دوسرے یمنی شہروں میں بھی آیندہ دنوں میں انسانی امداد بہم پہنچائی جائے گی''۔بیان میں مزید کہا گیا ہے۔سوئٹزر لینڈ میں جاری یمن امن مذاکرات کے تیسرے روز متحارب فریقوں کے درمیان اس سمجھوتے پر اتفاق ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی ثالثی میں ان مذاکرات میں یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے نمائندے شریک ہیں۔

مذکرات کے دوسرے روز فریقین نے قیدیوں کے تبادلے سے اتفاق کیا تھا۔البتہ انھوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عاید کیے تھے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ آیندہ دنوں کے ایجنڈے میں پائیدار جنگ بندی کے منصوبے کی تیاری اور قیدیوں کی رہائی سے متعلق امور شامل ہیں اور طرفین ان پر بات چیت کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں