.

اقوام متحدہ:داعش کے معاشی مقاطعے کے لیے قرارداد منظور

سلامتی کونسل کے اجلاس میں رکن ممالک کے وزرائے خزانہ کی پہلی مرتبہ شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے خزانہ نے داعش کے خلاف وسیع البنیاد پابندیوں اور اس کے مالی و معاشی مقاطعے کے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

امریکی وزیرخزانہ جیکب لیو نے سلامتی کونسل کے اس طرح کے پہلے اجلاس کی صدارت کی ہے۔یہ اجلاس بھی شام میں گذشتہ پونے پانچ سال سے جاری تنازعے کے حل کے لیے عالمی سطح پر جاری کوششوں ہی کی کڑی ہے۔

اس قرارداد میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے قوانین کی منظوری کو یقینی بنائیں جن کے تحت داعش کے مالیاتی ذرائع پر قدغنیں لگائی جائیں اور اس کی صفوں میں شامل ہونے والے غیرملکی جنگجوؤں کے خلاف سنگین فوجداری الزامات میں مقدمات چلائے جائیں۔

اس قرارداد کا مسودہ امریکا اور شام کے اتحادی روس نے تیار کیا تھا۔اس کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ کی پہلے سے وضع کردہ القاعدہ بلیک لسٹ کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے اور اب اس کا نیا نام ''داعش اور القاعدہ پابندیاں فہرست'' ہوگا۔جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے،اب اقوام متحدہ کی زیادہ تر توجہ داعش پر مرکوز ہوگی۔

قرارداد میں رکن ممالک پر زوردیا گیا ہے کہ وہ داعش کے لیے رقوم، دوسرے مالیاتی اثاثوں اور معاشی ذرائع کو منقطع کرنے کے لیے فیصلہ کن اور پُرعزم انداز میں اقدامات کریں۔اس میں واضح کیا گیا ہے کہ داعش سے تیل اور نوادرات کی خریداری سے گریز کیا جائے۔

قرارداد میں تمام رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ 120 دن کے اندر داعش کے مالی ذرائع پر قدغنوں کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کریں۔اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون سے کہا جائے گا کہ وہ داعش کے خطرے ،اس کے مالی ذرائع اور غیر ملکی جنگجوؤں کو رقوم کی فراہمی سے متعلق 45 دن کے اندر رپورٹ تیار کرائیں۔

لندن میں قائم ایک تجزیہ کار فرم آئی ایچ ایس کے مطابق داعش ہر ماہ آٹھ کروڑ ڈالرز کما رہی ہے لیکن روس اور امریکا کے داعش کے زیر قبضہ تیل کی تنصیبات پر حملوں سے اس کا رقوم مہیا کرنے کا ایک اہم ذریعہ سکڑ گیا ہے۔آئی ایچ ایس کا کہنا ہے کہ داعش کو نصف آمدن بھتے اور املاک کی لوٹ مار سے حاصل ہوتی ہے،43 فی صد تیل کی فروخت اور باقی رقوم منشیات کی اسمگلنگ ،بجلی کی فروخت اور عطیات سے حاصل ہوتی ہے۔