.

''روس شامی صدر بشارالاسد کی رخصتی پرمعترض نہیں ہوگا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے مغربی اقوام پر واضح کیا ہے کہ اس کو شام میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے امن عمل کے تحت صدر بشارالاسد کی رخصتی پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

نیویارک میں شامی تنازعے پر جمعہ کو مذاکرات کے تیسرے دور کے آغاز سے قبل روس سے متعلق یہ بیان سامنے آیا ہے۔ایک سینیر مغربی سفارت کار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''اب آپ کے سامنے ایک ایسی تحریک آ گئی ہے جو بشارالاسد کی رخصتی کے ساتھ ہی ختم ہوگی''۔
اس سفارت کار کے بہ قول ''اب روسی ڈھکے چھپے الفاظ میں یہ کہہ رہے ہیں اور اس نکتے پر پہنچ گئے ہیں کہ بشارالاسد کو انتقال اقتدار کے عمل کے بعد جانا ہوگا لیکن ابھی وہ سرکاری طور پریہ سب کچھ علانیہ کہنے کو تیار نہیں ہیں''۔

بعض دوسرے مغربی سفارت کاروں نے بھی اس بیان کی تصدیق کی ہے۔امریکا ،روس ،ایران ،سعودی عرب اور دوسری بڑی یورپی اور عرب طاقتوں نے شام بھر میں جنگ بندی کے لیے ایک نقشہ راہ سے اتفاق کیا ہے۔اس کے تحت بشارالاسد کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عبوری حکومت کے قیام سے متعلق جنوری سے براہ راست مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ان کے نتیجے میں یہ عبوری حکومت قائم ہوجاتی ہے تو پھر آیندہ اٹھارہ ماہ میں نئے انتخابات ہوں گے۔

نیویارک میں مذاکرات کے تیسرے دور میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری ،روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف اور اس عمل میں شامل دوسرے دس بارہ مغربی اور یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کررہے ہیں۔

روس اور ایران شامی صدر بشارالاسد کے سب سے بڑے حامی اور مؤید ہیں اور وہ ان کی اقتدار سے فوری رخصتی کے حق میں نہیں ہیں۔وہ بشارالاسد کا اقتدار بچانے کے لیے شام میں فوجی مداخلت بھی کررہے ہیں۔روس کے لڑاکا طیارے داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں جبکہ ایران کے فوجی شامی فوج کے شانہ بشانہ مشیروں کے روپ میں باغیوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔

امریکا اور اس کے اتحادی مغربی ممالک ،ترکی اور سعودی عرب شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے جنیوا اول معاہدے کے تحت بشارالاسد کی اقتدار سے فوری رخصتی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔البتہ اب انھوں نے اپنے اس موقف میں نرم پیدا کی ہے اور وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ بشارالاسد انتقال اقتدار کے عمل کی تکمیل کے دوران برسراقتدار رہ سکتے ہیں۔

یادرہے کہ 30 جون 2012ء کو اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پائے جنیوا اوّل کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ عبوری حکومت میں صدر بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہوگا لیکن شامی حکومت کا یہ مؤقف رہا ہے کہ صدر کے مستقبل کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوگی۔